ہستی کی بانہیں
درویشِ سکوت
صوفی راک
About
یہ گیت صوفیانہ کلام اور جدید راک موسیقی کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں طبلے کی تھاپ اور ہارمونیم کی سریلی دھنیں الیکٹرک گٹار کی گونج کے ساتھ مل کر ایک روحانی کیفیت پیدا کرتی ہیں۔ گلوکار کی اونچے سروں میں جذباتی ادائیگی سامعین کو ایک وجدانی سفر پر لے جاتی ہے۔
Lyrics
سونی راہوں میں کھویا ہوا میںاپنے ہی اندر کا راہی ہوا میںدستک دوں یا پکار لوں تجھ کوخالی ہاتھوں میں سجدہ لیا میں
در بدر ڈھونڈتا رہا تجھ کواپنی ہی ذات میں کھو گیا میںتو جو نہ تھا تو یہ جہاں کیساتیرے ہونے سے ہی تو ہوا میںلفظ سارے ہی جل کے راکھ ہوئےخاموشی بن کے رہ گیا میں
پیاس ایسی کہ دریا بھی تھم جائےتیرے نام کی لو سے اب تو دم آئےمیں مٹ جاؤں تو تو ہی تو باقی ہےتیری قربت میں اب سکون پائے
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میرا یارتجھے پا کے میں بھول بیٹھا اپنا ہی وقارتجھ میں گم ہوں، تجھ میں ڈھلتا جاؤںمیری ہستی تیری بانہوں میں ہے بے قرار
کیسا یہ سفر ہے، کیسی یہ طلب ہےتیرے جلووں کی مجھ پہ عجب یہ سلب ہےنہ کوئی دوری، نہ کوئی فاصلہ ہےتیری یادوں کی بارش میں اب تو کلب ہےذرا دیکھ تو سہی، میں کہاں کھڑا ہوںتیری راہوں کا ایک چھوٹا سا ذرہ ہوں
پیاس ایسی کہ دریا بھی تھم جائےتیرے نام کی لو سے اب تو دم آئےمیں مٹ جاؤں تو تو ہی تو باقی ہےتیری قربت میں اب سکون پائے
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میرا یارتجھے پا کے میں بھول بیٹھا اپنا ہی وقارتجھ میں گم ہوں، تجھ میں ڈھلتا جاؤںمیری ہستی تیری بانہوں میں ہے بے قرار
میں کیا تھا اور کیا ہو گیاتیرے رنگ میں سارا رنگا گیاخود کو چھوڑا تو تجھ کو پایاہر اک پردہ اب ہٹا دیاروح کی گہرائیوں میں اتر کے دیکھتیرا ہی عکس ہے، میں تو بس ایک آئینہ ہوں
تیرے عشق میں جلنا ہی میرا ٹھکانہتیرے ذکر میں جینا ہی میرا ترانہنہ کوئی منزل، نہ کوئی راستہبس تو ہی تو ہے، یہ سچ ہے پرانا
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میرا یارتجھے پا کے میں بھول بیٹھا اپنا ہی وقارتجھ میں گم ہوں، تجھ میں ڈھلتا جاؤںمیری ہستی تیری بانہوں میں ہے بے قرار
تو ہی تو ہے...صرف تو ہی تو ہے...میری سانسوں کا پہرہ ہے تجھ پرتو ہی میرا سجدہ، تو ہی میری دعابس تو ہی...بس تو ہی...
ہستی کی بانہیں
درویشِ سکوت
Preview