دہلیزِ عشق کا دیوانہ
شاہِ مصطفیٰ قادری
قوالی
About
یہ قوالی ایک جذباتی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گونج اور طبلے کی تھاپ کے ساتھ روحانی کیفیت پیدا کی گئی ہے۔ اس میں روایتی سوال و جواب کے انداز کو اپناتے ہوئے تالیوں کی گونج اور وجدانی کیفیت کو نمایاں کیا گیا ہے۔
Lyrics
مے نوشیِ الفت کا یہ عالم ہے دیوانوہو ہو، حق حق، بس نامِ یار کا چرچا ہےدل کی بستی میں اب کوئی نہیںبس وہی ہے، بس وہی ہے
میں تو خاکِ رہ گزر ہوں، وہ ہے شمسِ لا زوالمیری ہستی ایک قطرہ، وہ ہے دریا کی مثالجس نے دیکھا اس کو، خود سے بیزار ہو گیاعشق کی بازی میں، بندہ سرشار ہو گیاتیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی ہے میری آسسانس لیتا ہوں تو لگتا ہے، تو ہے میرے پاس
یا مصطفیٰ، یا مصطفیٰ، تیری دہلیز کا دیوانہ ہوںتیرے نام کی خوشبو میں، میں مٹ جانے کا پروانہ ہوںحق حق، یا مصطفیٰ، تیرے در کا میں دیوانہ ہوں
وجد میں ہے یہ جہاں، سب کچھ تجھ پہ قربان ہےتیری ایک نظر کے صدقے، یہ میری جانِ جان ہےہو ہو، حق حق، تیری ہی پہچان ہے
تیری الفت کا سمندر، مجھے ساحل نہیں چاہیےتیرے ذکر کے سوا، مجھے کوئی محفل نہیں چاہیےتو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن، تو ہی ظاہرتیرے عشق میں جل کر، میں تو ہو گیا ہوں طاہرحق، حق، حق، حق!
دنیا کی یہ رنگینیاں، بس دھوکا اور سراب ہیںتیرے قدموں کی دھول میں، سارے خواب کامیاب ہیںمیں تو گم ہوں اپنی ذات میں، تو مجھ میں ہی بستا ہےمیرا تو ہر اک لمحہ، تیرے نام پہ ہنستا ہے
یا مصطفیٰ، یا مصطفیٰ، تیری دہلیز کا دیوانہ ہوںتیرے نام کی خوشبو میں، میں مٹ جانے کا پروانہ ہوںحق حق، یا مصطفیٰ، تیرے در کا میں دیوانہ ہوں
بس تو ہی تو، بس تو ہی تودل کی دھڑکن میں تو، میری سانسوں میں توحق حق، یا مصطفیٰحق حق، یا مصطفیٰمیں مٹ گیا، میں مٹ گیا، تیری چاہ میںحق حق، یا مصطفیٰ
دہلیزِ عشق کا دیوانہ
شاہِ مصطفیٰ قادری
Preview