شہ رگ کا قرب
وجدِ قلم
Sufi Rock
About
ایک طاقتور صوفی راک ترانہ جس میں روایتی طبلہ اور ہارمونیم کی دھنوں کو جدید ڈسٹارٹڈ الیکٹرک گٹار کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ اس گانے میں جذباتی اور بلند آواز کی ادائیگی کے ذریعے روحانیت اور خود کو مٹانے کے فلسفے کو بیان کیا گیا ہے۔
Lyrics
میں ہوں اور یہ تپتی ہوئی راہ ہےتلاش اس کی ہے جو بے گناہ ہےخودی کا پردہ اٹھا کے دیکھ توہر ذرے میں اسی کی پناہ ہے
میں نے دیکھا ہے اسے اپنے ہی اندر کہیںوہ جو کہتا ہے کہ میں ہوں تیری شہ رگ کے قریباک آگ لگی ہے جو بجھتی نہیں اب کسی طورمیں ہوں بھٹکا ہوا، وہ ہے میرا واحد طبیبسارے بندھن توڑ کے نکلا ہوں میں آج تودل کی بستی میں بسا ہے وہی ایک حبیب
یہ دنیا فانی، یہ ہنگامے سب خواب ہیںحقیقت تو بس وہی ایک لاجواب ہے
مجھ میں سمایا وہ ذات بن کےمیں جی رہا ہوں اب بات بن کےنہ کوئی دوری نہ کوئی فاصلہوہ ہے میرے ساتھ دن رات بن کےمجھ میں سمایا وہ ذات بن کے
میں نے مٹایا ہے خود کو مٹانے کی خاطرکہ ہستی کا بوجھ اب اٹھایا نہیں جاتاوہ نور بن کے رگوں میں دوڑتا ہے میرےاس کے سوا کچھ بھی اب تو بھایا نہیں جاتامیں خاک تھا، خاک ہی رہوں گا اے دوستاس کے جلووں سے اب تو چھپایا نہیں جاتا
مجھ میں سمایا وہ ذات بن کےمیں جی رہا ہوں اب بات بن کےنہ کوئی دوری نہ کوئی فاصلہوہ ہے میرے ساتھ دن رات بن کےمجھ میں سمایا وہ ذات بن کے
سر تسلیم خم ہے، اب کوئی سوال نہیںوہ جو ہے، وہی ہے، اس کا کوئی زوال نہیںمیں مٹا تو وہ ملا، یہ کیسا کمال ہےاس عشق کے سفر میں کوئی بھی وبال نہیں
مجھ میں سمایا وہ ذات بن کےمیں جی رہا ہوں اب بات بن کےنہ کوئی دوری نہ کوئی فاصلہوہ ہے میرے ساتھ دن رات بن کےمجھ میں سمایا وہ ذات بن کے
وہ ذات بن کےمیرے ساتھ بن کےمیں مٹ گیا، وہ بچ گیابس وہی ایک، وہی ایکصرف وہی ایک۔
شہ رگ کا قرب
وجدِ قلم
Preview