Skip to content
شہ رگ کا قرب
Duration4:49

شہ رگ کا قرب

وجدِ قلم

Sufi Rock

About

ایک طاقتور صوفی راک ترانہ جس میں روایتی طبلہ اور ہارمونیم کی دھنوں کو جدید ڈسٹارٹڈ الیکٹرک گٹار کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ اس گانے میں جذباتی اور بلند آواز کی ادائیگی کے ذریعے روحانیت اور خود کو مٹانے کے فلسفے کو بیان کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro

میں ہوں اور یہ تپتی ہوئی راہ ہےتلاش اس کی ہے جو بے گناہ ہےخودی کا پردہ اٹھا کے دیکھ توہر ذرے میں اسی کی پناہ ہے

verse 1

میں نے دیکھا ہے اسے اپنے ہی اندر کہیںوہ جو کہتا ہے کہ میں ہوں تیری شہ رگ کے قریباک آگ لگی ہے جو بجھتی نہیں اب کسی طورمیں ہوں بھٹکا ہوا، وہ ہے میرا واحد طبیبسارے بندھن توڑ کے نکلا ہوں میں آج تودل کی بستی میں بسا ہے وہی ایک حبیب

pre-chorus

یہ دنیا فانی، یہ ہنگامے سب خواب ہیںحقیقت تو بس وہی ایک لاجواب ہے

chorus

مجھ میں سمایا وہ ذات بن کےمیں جی رہا ہوں اب بات بن کےنہ کوئی دوری نہ کوئی فاصلہوہ ہے میرے ساتھ دن رات بن کےمجھ میں سمایا وہ ذات بن کے

verse 2

میں نے مٹایا ہے خود کو مٹانے کی خاطرکہ ہستی کا بوجھ اب اٹھایا نہیں جاتاوہ نور بن کے رگوں میں دوڑتا ہے میرےاس کے سوا کچھ بھی اب تو بھایا نہیں جاتامیں خاک تھا، خاک ہی رہوں گا اے دوستاس کے جلووں سے اب تو چھپایا نہیں جاتا

chorus

مجھ میں سمایا وہ ذات بن کےمیں جی رہا ہوں اب بات بن کےنہ کوئی دوری نہ کوئی فاصلہوہ ہے میرے ساتھ دن رات بن کےمجھ میں سمایا وہ ذات بن کے

instrumental-solo
bridge

سر تسلیم خم ہے، اب کوئی سوال نہیںوہ جو ہے، وہی ہے، اس کا کوئی زوال نہیںمیں مٹا تو وہ ملا، یہ کیسا کمال ہےاس عشق کے سفر میں کوئی بھی وبال نہیں

chorus

مجھ میں سمایا وہ ذات بن کےمیں جی رہا ہوں اب بات بن کےنہ کوئی دوری نہ کوئی فاصلہوہ ہے میرے ساتھ دن رات بن کےمجھ میں سمایا وہ ذات بن کے

outro

وہ ذات بن کےمیرے ساتھ بن کےمیں مٹ گیا، وہ بچ گیابس وہی ایک، وہی ایکصرف وہی ایک۔

شہ رگ کا قرب

وجدِ قلم

Preview

شہ رگ کا قرب by وجدِ قلم | EchoLoRA: Generate a Song with AI