طوفان کی دستک
خاموش چیخ
پاکستانی راک
About
یہ گانا ایک طاقتور پاکستانی راک فیوژن ہے جس میں بھاری الیکٹرک گٹار کے ساتھ روایتی طبلہ کی تال کا انوکھا امتزاج ہے۔ گانے کی دھنیں سماجی بیداری اور اندرونی طوفان کو اجاگر کرتی ہیں، جس میں مشرقی راگوں کی گہرائی اور راک موسیقی کی توانائی نمایاں ہے۔
Lyrics
دور کہیں اک چیخ دبے ہےخوابوں کی اس راکھ تلے ہےوقت کی نبض پہ ہاتھ ہے میراسچ کا راستہ صاف ہے میرا
گلیوں میں اب دھوپ نہیں ہےسائے بھی بے نام ہوئے ہیںجن ہاتھوں نے بونے تھے تارےوہ اب مٹھی میں زہر لیے ہیںدیواروں پر لکھے ہوئے ہیںکچھ نام جو ہم بھول چکے ہیںسڑکوں پر اب شور بہت ہےہم خود سے ہی دور ہوئے ہیں
آنکھیں کھول کے دیکھ ذرا توکب تک خود کو چھپائے گایہ زنجیریں پگھلیں گی ابتو کب تک سچ سے بھاگے گا
اٹھ کھڑا ہو، وقت ہے تیرااس اندھیرے کو چیر دے ابخون میں جو ہے آگ بھڑکیاس کو دنیا میں بانٹ دے ابتیرے اندر طوفان چھپا ہےاس کو باہر آنے دے اب
کتابوں میں جو لکھا تھا کلوہ سچائی اب مٹ گئی ہےجس رستے پر چلنا تھا ہم کووہ منزل بھی کھو گئی ہےپر امیدوں کے پاؤں میں ابپتھر کی زنجیر نہیں ہےیہ جو خاموشی چھائی ہوئی ہےیہ کسی کی تقدیر نہیں ہے
آنکھیں کھول کے دیکھ ذرا توکب تک خود کو چھپائے گایہ زنجیریں پگھلیں گی ابتو کب تک سچ سے بھاگے گا
اٹھ کھڑا ہو، وقت ہے تیرااس اندھیرے کو چیر دے ابخون میں جو ہے آگ بھڑکیاس کو دنیا میں بانٹ دے ابتیرے اندر طوفان چھپا ہےاس کو باہر آنے دے اب
راکھ سے اٹھنا سیکھ لے توآسماں کو چھونا سیکھ لے تویہ جو ڈر ہے تیرا ساتھیاس کا گلا گھونٹنا سیکھ لے تو
اٹھ کھڑا ہو، وقت ہے تیرااس اندھیرے کو چیر دے ابخون میں جو ہے آگ بھڑکیاس کو دنیا میں بانٹ دے ابتیرے اندر طوفان چھپا ہےاس کو باہر آنے دے اب
آگ بھڑکی ہے...اب نہیں رکنا...سچ بولنا ہے...اب نہیں ڈرنا...آگ بھڑکی ہے...
طوفان کی دستک
خاموش چیخ
Preview