Skip to content
طوفان کی دستک
Duration3:39

طوفان کی دستک

خاموش چیخ

پاکستانی راک

About

یہ گانا ایک طاقتور پاکستانی راک فیوژن ہے جس میں بھاری الیکٹرک گٹار کے ساتھ روایتی طبلہ کی تال کا انوکھا امتزاج ہے۔ گانے کی دھنیں سماجی بیداری اور اندرونی طوفان کو اجاگر کرتی ہیں، جس میں مشرقی راگوں کی گہرائی اور راک موسیقی کی توانائی نمایاں ہے۔

Lyrics

intro

دور کہیں اک چیخ دبے ہےخوابوں کی اس راکھ تلے ہےوقت کی نبض پہ ہاتھ ہے میراسچ کا راستہ صاف ہے میرا

verse

گلیوں میں اب دھوپ نہیں ہےسائے بھی بے نام ہوئے ہیںجن ہاتھوں نے بونے تھے تارےوہ اب مٹھی میں زہر لیے ہیںدیواروں پر لکھے ہوئے ہیںکچھ نام جو ہم بھول چکے ہیںسڑکوں پر اب شور بہت ہےہم خود سے ہی دور ہوئے ہیں

pre-chorus

آنکھیں کھول کے دیکھ ذرا توکب تک خود کو چھپائے گایہ زنجیریں پگھلیں گی ابتو کب تک سچ سے بھاگے گا

chorus

اٹھ کھڑا ہو، وقت ہے تیرااس اندھیرے کو چیر دے ابخون میں جو ہے آگ بھڑکیاس کو دنیا میں بانٹ دے ابتیرے اندر طوفان چھپا ہےاس کو باہر آنے دے اب

verse

کتابوں میں جو لکھا تھا کلوہ سچائی اب مٹ گئی ہےجس رستے پر چلنا تھا ہم کووہ منزل بھی کھو گئی ہےپر امیدوں کے پاؤں میں ابپتھر کی زنجیر نہیں ہےیہ جو خاموشی چھائی ہوئی ہےیہ کسی کی تقدیر نہیں ہے

pre-chorus

آنکھیں کھول کے دیکھ ذرا توکب تک خود کو چھپائے گایہ زنجیریں پگھلیں گی ابتو کب تک سچ سے بھاگے گا

chorus

اٹھ کھڑا ہو، وقت ہے تیرااس اندھیرے کو چیر دے ابخون میں جو ہے آگ بھڑکیاس کو دنیا میں بانٹ دے ابتیرے اندر طوفان چھپا ہےاس کو باہر آنے دے اب

bridge

راکھ سے اٹھنا سیکھ لے توآسماں کو چھونا سیکھ لے تویہ جو ڈر ہے تیرا ساتھیاس کا گلا گھونٹنا سیکھ لے تو

tabla-solo
guitar-solo
chorus

اٹھ کھڑا ہو، وقت ہے تیرااس اندھیرے کو چیر دے ابخون میں جو ہے آگ بھڑکیاس کو دنیا میں بانٹ دے ابتیرے اندر طوفان چھپا ہےاس کو باہر آنے دے اب

outro

آگ بھڑکی ہے...اب نہیں رکنا...سچ بولنا ہے...اب نہیں ڈرنا...آگ بھڑکی ہے...

طوفان کی دستک

خاموش چیخ

Preview

طوفان کی دستک by خاموش چیخ | EchoLoRA: Generate a Song with AI