حقیقی خمار
غلامِ مولا قوال
قوالی
About
یہ قوالی ایک جذباتی سفر ہے جس کا آغاز ہارمونیم کے گہرے ڈرون اور تال کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس میں روایتی کال اینڈ ریسپانس اور تالیوں کی گونج شامل ہے جو سامعین کو روحانی وجد کی کیفیت میں لے جاتی ہے۔
Lyrics
میرے مولا، میرے آقا، میری بگڑی بنا دےتیرے در کا سوالی ہوں، مجھے اپنا بنا لےمیں بھٹکتا رہا مدتوں، تیری چوکھٹ پہ آیا ہوںمیری توبہ قبول کر لے، مجھے سینے سے لگا لے
میں تو اک ذرہ ہوں، تو ہے سورج کی تابانیتیری الفت میں گُم ہے میری ساری زندگانیکبھی خود کو ڈھونڈا میں نے، کبھی تجھ کو پکاراتیرے سوا کوئی نہیں میرا، اے ربِ لاثانیمیری آنکھوں میں ہے تیری ہی تصویر کی جھلکمیرے جذبوں میں ہے تیری ہی چاہت کی روانی
یہ کیسا نشہ ہے، یہ کیسا خمار ہےتجھ سے ہی زندگی کا، سارا اعتبار ہےمیں تجھ میں کھو گیا، تو مجھ میں بس گیایہ عشقِ حقیقی، پروردگار ہے
کبھی سجدوں کی لذت، کبھی اشکوں کی طغیانیتیرے قرب کی تڑپ، میری روح کی پریشانیمیں تیری یاد میں جاگا، میں تیری یاد میں سویایہ عشقِ الٰہی ہے، کوئی کھیل نہیں فانیمیری ہر سانس میں تیرا ہی نام گونجتا ہےتیرے ذکر سے ہی روشن ہے میری یہ پیشانی
ہو، میرا دل تیرا گھر ہےہو، میری سانس تیرا ذکر ہےہو، میں فنا، تو بقاہو، یہی تو میرا سفر ہے
تیری رحمتوں کا دریا، میری پیاس بجھائےتیرے عشق کی آگ، میرے سب غم مٹائےمیں ڈوبتا ہوں، تو مجھے پار اتار دےتیرے سوا کوئی نہیں، جو مجھے اپنا بنائےوجد میں ہے روح میری، تیری ہی تجلی ہےتیرا دیدار ہی، میری آنکھوں کا سرمائے
یہ دنیا تو ہے اک سرائے، مسافر چلے جاتے ہیںتیرے بندے تیری ہی طرف، پلٹ کر آتے ہیںمیں گنہگار ہوں، مگر تیری رحمت پہ ناز ہےتیرے در کے بھکاری، کبھی نہ خالی ہاتھ جاتے ہیںمیرے مولا، میرے آقا، بس تیرا ہی سہارا ہےتیرے عشق میں ہی، ہم سب کچھ پا جاتے ہیں
یہ کیسا نشہ ہے، یہ کیسا خمار ہےتجھ سے ہی زندگی کا، سارا اعتبار ہےمیں تجھ میں کھو گیا، تو مجھ میں بس گیایہ عشقِ حقیقی، پروردگار ہے
تیرے ہی نام پر ختم، میری ہر کہانیتیرے ہی نام سے شروع، میری ہر نشانیمولا، مولا، مولا، میری سن لے پکارمولا، مولا، مولا، کر دے مجھ پہ کرمتیرے در پر ہی بندگی، تیرے در پر ہی سکونتیرا ہی نام، تیرا ہی نام، اے میرے ربِ کریمبس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہے...
حقیقی خمار
غلامِ مولا قوال
Preview