Skip to content
Duration3:43

روح کا ٹھکانہ

سفرِ روح

کوک اسٹوڈیو فیوژن

About

یہ گیت روایتی رباب اور ستار کی دھنوں کو جدید الیکٹرانک بیٹس اور گہری صوتی ساخت کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں ایک پرُاثر گلوکاری کا مظاہرہ ہے جو صوفیانہ اور جدید پاپ موسیقی کے سنگم کو بخوبی پیش کرتا ہے۔

Lyrics

intro

تیرے در کی ہواؤں میں بسی ہے کائنات میریتیری یادوں کے موسم میں کھلی ہے ذات میریاک انجانی سی تڑپ، اک خاموش سا سفرتجھ سے شروع، تجھ پر ختم، یہ حیات میری

verse 1

راستوں کے سنگ چلتے، تھک گئے ہیں اب قدمخواب آنکھوں میں سجائے، ڈھونڈتے ہیں وہ بھرمریت کے ذروں میں چھپا، تیرا ہی تو عکس ہےتیرے بن جینے کا ہر لمحہ، اک گہرا سا غمہم نے سمجھی تھی جسے اپنی، وہ منزل دور ہےتیرے قرب کی جستجو میں، دل اب مجبور ہے

verse 2

کبھی بادلوں کی اوٹ سے، کبھی شب کی خاموشی میںتجھ کو پکارا ہے ہم نے، ہر پل مدہوشی میںوقت کی لہریں بہا لے گئیں، سارے پرانے نشانبس تیرا نام ہی باقی ہے، میری ہر ایک بات میںآنکھیں ترستی ہیں جس کا، وہ نظارہ تو ہےمیری تنہائی کا واحد، وہ سہارا تو ہے

pre-chorus

آسماں کے تارے بھی، اب تو سوال کرتے ہیںتیری دیوانی آنکھیں، کیوں یہ کمال کرتے ہیںذرا دیکھ تو سہی، ہم کتنے بے حال ہوئےتیری راہوں میں بیٹھ کر، ہم نڈھال ہوئے

chorus

تو ہی تو ہے، میری روح کا ٹھکانہتیرے بغیر، یہ سارا جہاں ہے ویرانہتجھ سے جڑی ہے، ہر سانس کی ڈورتیرے عشق میں ہم ہوئے، خود سے دورتو ہی تو ہے، میری روح کا ٹھکانہ

verse 3

پرانی یادوں کے دریچے، اب کھلنے لگے ہیںتیرے وصال کے دیپ، دل میں جلنے لگے ہیںکوئی کہے اسے جنون، کوئی کہے اسے دعاہم تو بس تیری گلیوں میں، خود کو بدلنے لگے ہیںسفر طویل سہی، پر تھکن نہیں ہے ہمیںتیری چاہت کا نشہ، اب کم نہیں ہے ہمیں

instrumental-solo
bridge

اے کاش! کبھی تو، یہ فاصلے مٹ جائیںتیرے قدموں کی چاپ، میرے کانوں میں گنگنائیںپھر نہ ہو کوئی دوری، نہ کوئی ہو حجابتیرے وصال کی کرنیں، میری زندگی کو سجائیںہم مٹ کے بھی، تجھ میں ہی زندہ رہیں گےتیرے نام کی مالا، سدا ہم جپتے رہیں گے

chorus

تو ہی تو ہے، میری روح کا ٹھکانہتیرے بغیر، یہ سارا جہاں ہے ویرانہتجھ سے جڑی ہے، ہر سانس کی ڈورتیرے عشق میں ہم ہوئے، خود سے دورتو ہی تو ہے، میری روح کا ٹھکانہ

bridge

سنا ہے تیرے در پر، جو آتا ہے وہ پا لیتا ہےہر زخم، ہر درد، وہ اپنا چھپا لیتا ہےہم بھی کھڑے ہیں اسی آس میں، کب کرم ہوگاکب تیرے دیدار سے، یہ دل شادماں ہوگایہ تڑپ، یہ پکار، اب تو سن لے ذراتجھ بن جینا، اب محال ہے خدا

outro

بس تیرا ہی تو ہے، یہ سارا فسانہتیرے ہی دم سے ہے، یہ دل کا ٹھکانہخاموشیوں میں بھی، تیرا ہی شور ہےتجھ سے ہی تو، زندگی کا ہر ایک طور ہےمیرا ٹھکانہ... بس تو ہی تو ہےمیرا ٹھکانہ... بس تو ہی تو ہے

روح کا ٹھکانہ

سفرِ روح

Preview