Skip to content
Duration4:29

سیمنٹ کا جنگل

زرقونِ حیات

پاکستانی ہپ ہاپ

About

یہ ٹریک جدید ٹریپ بیٹس اور روایتی طبلہ کی تھاپ کا ایک منفرد امتزاج ہے جو کراچی کے شہری ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں گہرے 808 باس لائنز کے ساتھ سماجی حقائق اور جدوجہد کو اردو زبان میں بیان کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro

سڑکوں کی دھول میں لپٹا ہوا میرا نامآنکھوں میں خواب، ہاتھوں میں وقت کی لگامیہ شہر ہے یا کوئی بند گلی کا امتحان؟ہم لڑ رہے ہیں اپنی ہی ذات کے خلاف، بے نام

verse

سیمنٹ کے جنگل میں، سورج ڈھلتا ہے دیر سےہم نے سیکھا جینا، صرف حالات کے پھیر سےیہاں ہر دیوار پر لکھے ہیں ادھورے سے افسانےکون سنے گا درد، جب سب ہیں خود کو بچانےکالی راتیں، روشن آنکھیں، جیبیں خالیتپتی دوپہر، محنت کی کمائی، قسمت ہے جالیہم نے ٹھوکریں کھائیں، تب جا کے راستہ پایااپنی پہچان کا دیا، اندھیروں میں جلایاکوئی پوچھتا نہیں، تیرا تعلق ہے کہاں سے؟سب دیکھتے ہیں، کتنا تو لڑا ہے یہاں سے

chorus

یہ میرا شہر ہے، میری پہچان ہےٹوٹے ہوئے خوابوں کا یہ جہان ہےہم گریں گے تو اٹھیں گے پھر سے یہاںیہ حوصلہ ہی تو ہماری آن ہےیہ میرا شہر ہے، میری پہچان ہے

verse

گلیوں کے موڑ پر کھڑا، میں سوچتا ہوں اکثرکیا یہی زندگی ہے؟ یا ہے کوئی دوسرا منظر؟لوگ کہتے ہیں بدل جا، وقت کے ساتھ چلمیں کہتا ہوں، میری اپنی ہے ہر ایک ہلچلنہ کسی کا غلام، نہ میں کسی کا پیروکاراپنے لفظوں سے بناتا ہوں میں اپنا ہی وقاریہاں رشوت کا بازار، اور سچ کی ہے قیمتہم جیسے غریبوں کی، کہاں ہوتی ہے قسمت؟پر ہم نے ہمت نہ ہاری، نہ سر جھکایا کبھیاپنے لہو سے لکھی ہے اپنی تقدیر، اب بھی

bridge

دور افق پر، ایک نئی کرن چمکتی ہےمیری روح، میری جدوجہد سے دہکتی ہےرکنا نہیں، تھکنا نہیں، ابھی سفر باقی ہےمیری آواز میں، میرے خون کی تپش باقی ہےبدلیں گے یہ حالات، بدلیں گے یہ سب زاویےہم اپنی جیت کا جشن، خود ہی منائیں گے

chorus

یہ میرا شہر ہے، میری پہچان ہےٹوٹے ہوئے خوابوں کا یہ جہان ہےہم گریں گے تو اٹھیں گے پھر سے یہاںیہ حوصلہ ہی تو ہماری آن ہےیہ میرا شہر ہے، میری پہچان ہے

verse

آسمان کی بلندی، میری نظروں میں قید ہےیہ دنیا ایک پہیلی، جس کا ہر حل ایک ضد ہےمیں اکیلا نہیں، میرے ساتھ میرا پورا کارواںان گنت چہرے، جن کی منزل ہے وہی آسماںہم نے جو بویا تھا، وہی آج کاٹ رہے ہیںاپنے ہی ہاتھوں سے، اپنی تقدیر بانٹ رہے ہیںیہ شہر خاموش نہیں، یہاں ہر اینٹ بولتی ہےمیری محنت کی کہانی، خود ہی خود کو کھولتی ہے

outro

ابھی تو شروعات ہے، ابھی تو سورج طلوع ہوگاہر اندھیرا مٹے گا، ہر ایک خواب شروع ہوگاسڑکیں گواہ ہیں، میرا ہر قدم ایک اعلان ہےیہ میرا شہر، میری جدوجہد، میری پہچان ہےمیری پہچان ہے...میری پہچان ہے...

سیمنٹ کا جنگل

زرقونِ حیات

Preview

سیمنٹ کا جنگل by زرقونِ حیات | EchoLoRA: Generate a Song with AI