Skip to content
Duration3:10

شہرِ خودداری

سلطانِ گلی

پاکستانی ہپ ہاپ

About

یہ ٹریک جدید ٹریپ بیٹس اور روایتی طبلے کے تال میل سے تیار کردہ ایک گہرا سماجی بیانیہ ہے۔ اس میں بھاری 808 بیس لائنز کے ساتھ اردو شاعری کا ایسا امتزاج ہے جو کراچی اور لاہور کی گلیوں کی حقیقت اور جدوجہد کو عیاں کرتا ہے۔

Lyrics

intro

روشنیوں کے اس شہر میں، اندھیرا گہرا ہوتا ہےہر گلی میں ایک کہانی، ہر موڑ پر اک پہرہ ہوتا ہےہم نکلے ہیں سچ کی تلاش میں، اپنی ہی دھن میںیہاں ہر سانس میں اک نیا، طوفان ٹھہرا ہوتا ہے

verse

کنکریٹ کے ان جنگلوں میں، ہم نے پنپنا سیکھا ہےخالی جیبوں کے ساتھ بھی، ہم نے جینا سیکھا ہےیہاں خوابوں کی قیمت، پلکوں پر رکھی جاتی ہےاور حقیقت کی تلوار، رگوں میں بہتی جاتی ہےنہ کوئی سفارش، نہ کوئی اپنا ہاتھ ہے یہاںبس اپنی ہمت، اور اپنا ہی ساتھ ہے یہاںدھول اڑتی ہے، تو چہروں پر نشان پڑتے ہیںہم گرتے ہیں، سنبھلتے ہیں، اور پھر سے لڑتے ہیں

chorus

یہ شہر ہمارا ہے، اور ہم اس کی پہچان ہیںتپتی دوپہروں میں، ہم ہی تو طوفان ہیںلفظوں کی آگ، اور لہجے میں اک تیزی ہےہماری رگوں میں، ابھی تک وہی خودداری ہےیہ شہر ہمارا ہے، ہم اس کی پہچان ہیں

verse

دیواروں پر لکھے ہوئے، وہ نام مٹ جاتے ہیںمگر جو دلوں میں بس جائیں، وہ کبھی نہیں جاتے ہیںیہاں وعدوں کی سیاست، اور امیدوں کا ماتم ہےہر شخص اپنی ہی ذات میں، کسی نہ کسی کا غم ہےہم نے دیکھا ہے، اونچی عمارتوں کا یہ غروراور فٹ پاتھ پر سوتے ہوئے، خوابوں کا قصورمگر ہم رکیں گے نہیں، یہ راستہ ہمارا ہےکل کا سورج بھی، انشاءاللہ ہمارا ہی ستارہ ہے

bridge

سڑکوں کی دھڑکن میں، ہماری ہی آواز ہےخاموشی کے پیچھے، چھپا ہوا اک راز ہےہم نہیں جھکیں گے، ہم نہیں رکیں گےحق کی خاطر، ہر حد سے ہم گزریں گے

chorus

یہ شہر ہمارا ہے، اور ہم اس کی پہچان ہیںتپتی دوپہروں میں، ہم ہی تو طوفان ہیںلفظوں کی آگ، اور لہجے میں اک تیزی ہےہماری رگوں میں، ابھی تک وہی خودداری ہےیہ شہر ہمارا ہے، ہم اس کی پہچان ہیں

outro

آواز بلند کر، کہ وقت بدلنے والا ہےہر ذرہ یہاں، اپنی کہانی کہنے والا ہےہم ہیں، ہم رہیں گے، اور ہم ہی سنواریں گےاس شہر کی خاک کو، ہم ہی تو نکھاریں گےبس چلتے رہو، چلتے رہو...یہ شہر ہمارا ہے۔

شہرِ خودداری

سلطانِ گلی

Preview