تنہائیوں کا شہر
شایانِ سحر
پاکستانی پاپ
About
یہ گانا روایتی طبلے کی تھاپ اور جدید سنتھسائزر کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں جذباتی آواز کے ساتھ ایک دلکش پاپ دھن شامل کی گئی ہے۔ اس کی پروڈکشن میں مشرقی راگوں کی گہرائی اور الیکٹرانک بیٹس کا بہترین توازن موجود ہے جو سننے والے کو ایک پرانی یادوں کے سفر پر لے جاتا ہے۔
Lyrics
تنہائیوں کے شہر میں، ہم کھو گئے کہاںآنکھوں میں خواب لے کر، ہم سو گئے کہاںہر سانس میں تیری یاد، ہر پل میں تیرا نامدل کے اس ویرانے میں، اب تیرا ہی قیام
گلیوں کے موڑ پر وہ، ٹھہرنا تیرا یاد ہےتیری ہنسی میں چھپی، کوئی فریاد ہےہم چلتے رہے ساتھ، انجان راستوں پراب مڑ کے دیکھتے ہیں، تو بس دھند ہے نظروں پروہ شام کی وہ باتیں، وہ چائے کا اک پیالہتیرے بن اب کٹتا نہیں، یہ زندگی کا حوالہ
موسم بدل رہے ہیں، پر یادیں وہی ہیںآنکھوں میں جو تارے تھے، وہ اب بھی وہیں ہیںتیرے بن یہ دل، اب مانتا نہیں ہےتیری دوری کا غم، ہم سے سہتا نہیں ہے
آجا، کہ اب تیرا ہی انتظار ہےاس دل کو بس تجھ سے ہی، اب پیار ہےدھڑکنوں میں تیرا ہی، اک شور بپا ہےمیری ہر خوشی، تجھ سے ہی تو ملا ہےآجا، کہ اب تیرا ہی انتظار ہے
کتابوں کے ورقوں میں، تیرا عکس چھپا ہےتیرے بن یہ موسم، اداس سا کھڑا ہےوہ شہر کی روشنی، اب پھیکی لگتی ہےتیرے ذکر کے بنا، یہ رات بھی نہ کٹتی ہےہم نے تو سوچا تھا، ساتھ چلیں گے عمر بھرپر تقدیر کے کھیل میں، ہم رہ گئے ہیں بے گھر
موسم بدل رہے ہیں، پر یادیں وہی ہیںآنکھوں میں جو تارے تھے، وہ اب بھی وہیں ہیںتیرے بن یہ دل، اب مانتا نہیں ہےتیری دوری کا غم، ہم سے سہتا نہیں ہے
آجا، کہ اب تیرا ہی انتظار ہےاس دل کو بس تجھ سے ہی، اب پیار ہےدھڑکنوں میں تیرا ہی، اک شور بپا ہےمیری ہر خوشی، تجھ سے ہی تو ملا ہےآجا، کہ اب تیرا ہی انتظار ہے
کبھی تو لوٹ آؤ گے، یہ امید دل میں ہےتیری خوشبو کا بسیرا، میری ہر محفل میں ہےفاصلے تو مٹ جائیں گے، ایک دن تو آئے گامیرا یہ دل پھر سے، تیرے گیت گائے گاوقت کی لہروں میں، بہہ نہ جائیں ہمتیرے انتظار میں، سہہ لیں گے ہر ستم
آجا، کہ اب تیرا ہی انتظار ہےاس دل کو بس تجھ سے ہی، اب پیار ہےدھڑکنوں میں تیرا ہی، اک شور بپا ہےمیری ہر خوشی، تجھ سے ہی تو ملا ہےآجا، کہ اب تیرا ہی انتظار ہے
انتظار ہے، بس تیرا ہی انتظار ہےیہ دل بے قرار ہے، ہاں بے قرار ہےخوابوں میں آؤ، حقیقت بن کر آؤبس ایک بار، میرے پاس چلے آؤتیرا ہی انتظار ہے، ہاں تیرا ہی انتظار ہے
تنہائیوں کا شہر
شایانِ سحر
Preview