وصل کا غلغلہ
نورِ وصل
قوالی فیوژن
About
یہ قوالی فیوژن ٹریک روایتی ہارمونیم اور طبلے کی تھاپ کو جدید الیکٹرانک بیٹس اور گٹار کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں صوفیانہ کلام، جذباتی صوتی اتار چڑھاؤ، اور تالیوں کی گونج شامل ہے جو ایک روحانی اور پرجوش ماحول پیدا کرتی ہے۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی التجا ہےباطن کی ویرانی میں، اک نور سا بسا ہےمیں خود سے دور نکلا، تو تجھ کو پا لیا ہےیہ کیسا مے کدہ ہے، یہ کیسا راستہ ہے
میں ڈھونڈتا تھا جس کو، وہ میرے اندر ہی تھامیں خار زار میں بھٹکا، وہ میرے منظر ہی تھایہ ہجر کا سفر اب، وصل میں ڈھل رہا ہےجو تیرا نام ہے بس، وہی تو دل میں ہے
مجھ میں تو، تجھ میں میں، اب کوئی فاصلہ نہیںتیری یاد کے سوا، کوئی دوسرا سلسلہ نہیںمیں مٹا تو پایا تجھ کو، یہ کیسا معجزہ ہےمیری بستی میں اب، تیرا ہی غلغلہ ہے
ہائے رے، ہائے رے، عشق کی یہ انتہاآ جا، آ جا، دل میں بس جاسب مٹا، خود مٹا، تجھ کو پا لیایا رب، یا رب، تیرا ہی واسطہ
یہ دنیا ایک دھوکا، یہ رنگ و بو کا میلہتیرے عشق میں ہوا ہوں، میں آج تک اکیلامگر اب خوف کیسا، جب ساتھ تو کھڑا ہےمیری روح کا پرندہ، اب تجھ پہ ہی اڑا ہے
مجھ میں تو، تجھ میں میں، اب کوئی فاصلہ نہیںتیری یاد کے سوا، کوئی دوسرا سلسلہ نہیںمیں مٹا تو پایا تجھ کو، یہ کیسا معجزہ ہےمیری بستی میں اب، تیرا ہی غلغلہ ہے
تجھ میں گم، تجھ میں گممیں تو ہوں، بس تو ہی ہےتجھ میں گم، تجھ میں گممیں تو ہوں، بس تو ہی ہے
خودی کی حد سے آگے، یہ جہاں ہےبس تیرا ہی ذکر، میری زبان ہےمیں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہےصرف تو ہے، صرف تو ہے
وصل کا غلغلہ
نورِ وصل
Preview