Skip to content
Duration3:59

محبوب حقیقی کا دیوانہ

سائیں رحیم بخش

قوالی

About

یہ قوالی ایک جذباتی روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کا مسلسل گونجتا ہوا سر، طبلے کی پیچیدہ تال، اور اجتماعی تالیوں کی تھاپ شامل ہے۔ اس میں پرجوش کال اینڈ ریسپانس انداز کے ذریعے وحدانیت اور عشقِ الٰہی کی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro

تیرے در کا گدا ہوں میں، کرم کی ایک نظر کر دےمٹایا خود کو جس نے بھی، اسے تو معتبر کر دےمیں بھٹکا ہوا راہی ہوں، اندھیری شب کا مارا ہوںمیرے ویران سینے میں، محبت کا اثر بھر دے

verse

کہاں ڈھونڈوں تجھے مولیٰ، تو رگ رگ میں بستا ہےتیرے بن سانس لینا بھی، مجھے اک بوجھ لگتا ہےمیں اپنے آپ سے خالی، تیری یادوں سے بھر جاؤںیہی اک التجا لے کر، تیرے دربار آتا ہوں

chorus

محبوبِ حقیقی تو، میں تیرا دیوانہ ہوںتیرے عشق کی مستی میں، میں خود سے بیگانہ ہوںمحبوبِ حقیقی تو، میں تیرا دیوانہ ہوںتیرے عشق کی مستی میں، میں خود سے بیگانہ ہوں

verse

نہ کوئی ذات ہے میری، نہ کوئی نام ہے میرامیں بس اک خاک کا ذرہ، تیرا ہی کام ہے میراتو جس رنگ میں رکھے گا، اسی رنگ میں ڈھل جاؤںتیرے قدموں کی دھول بن کر، میں راہوں میں بکھر جاؤں

improvisation

یا رب، یا رب، یا ربتیرے سوا کوئی نہیں، تیرے سوا کوئی نہیںمیں فنا ہو گیا تجھ میں، اب میں باقی نہیں رہامیری ہر دھڑکن میں تیرا نام، تیرے جلوے، تیری پکاربس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہے

crescendo

عشق کی آگ میں جل کر، میں کندن ہو گیا ہوں ابتیری دہلیز پر گر کر، میں روشن ہو گیا ہوں ابیہ سر جھکا ہے تیرے آگے، یہ دل تیرے حوالے ہےمری ہر ایک سانس اب تو، تیرے ہی دم سے پالے ہےمٹا دے ہستیِ فانی، مجھے تو اپنا بنا لے ابمجھے تو اپنا بنا لے اب، مجھے تو اپنا بنا لے اب

chorus

محبوبِ حقیقی تو، میں تیرا دیوانہ ہوںتیرے عشق کی مستی میں، میں خود سے بیگانہ ہوںمحبوبِ حقیقی تو، میں تیرا دیوانہ ہوںتیرے عشق کی مستی میں، میں خود سے بیگانہ ہوں

outro

تیرا ہی نام لبوں پر، تیرا ہی خیال دل میںمیں کھو گیا ہوں تجھ میں، اب کوئی ملال نہیںبس تو ہے، بس تو ہے، بس تو ہےحق، حق، حق، حقحق موجود، حق موجود

محبوب حقیقی کا دیوانہ

سائیں رحیم بخش

Preview