تنہائی کی راہ
زین العابدین
پاکستانی فلمی موسیقی
About
ایک جذباتی اور سینماٹک گیت جس میں روایتی طبلہ اور ہارمونیم کا امتزاج جدید سٹرنگ آرکسٹریشن کے ساتھ کیا گیا ہے۔ یہ گیت تنہائی اور محبت کی یادوں کے گرد گھومتا ہے، جس میں گلوکاری کا انداز انتہائی پر اثر اور کلاسیکی راگوں سے متاثر ہے۔
Lyrics
تنہائی کی ان راہوں میں، اک خواب سا بکھرا ہےپلکوں پہ ٹھہری یادیں، دل غم سے اب ابھرا ہے
تیری خوشبو کا پیچھا کرتے، ہم کہاں سے کہاں آ گئےوہ جو باتیں تھیں کانوں میں، اب وہ سب کہاں چھا گئےتیرے بن یہ شہر سونا، جیسے ویران کوئی بستی ہوکیسے جیئیں اب ہم، جب ہر سانس اک نئی پیاسی ہو
آسماں سے پوچھ لو، یہ ستارے گواہ ہیںہم نے جو دی تھی صدائیں، وہ ابھی تک فضا میں ہیں
مڑ کے دیکھو تو سہی، ہم کھڑے ہیں وہیںتیری چاہت میں جل کر، ہوئے اب ہم کہیں نہیںموسم بدلتے رہے، ہم نہ بدلے کبھیتیری الفت کا سایہ، ہے سر پہ اب بھی
کوئی رستہ نہ کوئی منزل، بس تیرا ہی خیال ہےاس تڑپتی ہوئی روح کا، تو ہی تو اک سوال ہےوقت کی لہروں میں بہہ گئے، وعدے سب ہی پرانےاب تو واپس آ جا، چھوڑ کر سب بہانے
دھند میں لپٹی ہوئی، وہ پرانی سی تصویریںکیسے مٹا دیں ہم، لکھی ہوئی یہ تقدیریںرات کا سناٹا کہے، اب بھی تو پاس ہےتیری کمی کا یہ احساس، اک زہرِ جاں ہے
مڑ کے دیکھو تو سہی، ہم کھڑے ہیں وہیںتیری چاہت میں جل کر، ہوئے اب ہم کہیں نہیںموسم بدلتے رہے، ہم نہ بدلے کبھیتیری الفت کا سایہ، ہے سر پہ اب بھی
اب تو لوٹ آ، اے ہم سفرتیرے بنا، کٹتی نہیں یہ سحرصرف تیری ہی یادوں کا، اب بسیرا ہےتیرے بن، بس اندھیرا ہی اندھیرا ہے
تنہائی کی راہ
زین العابدین
Preview