Skip to content
Duration3:45

تنہائی کی راہ

زین العابدین

پاکستانی فلمی موسیقی

About

ایک جذباتی اور سینماٹک گیت جس میں روایتی طبلہ اور ہارمونیم کا امتزاج جدید سٹرنگ آرکسٹریشن کے ساتھ کیا گیا ہے۔ یہ گیت تنہائی اور محبت کی یادوں کے گرد گھومتا ہے، جس میں گلوکاری کا انداز انتہائی پر اثر اور کلاسیکی راگوں سے متاثر ہے۔

Lyrics

intro

تنہائی کی ان راہوں میں، اک خواب سا بکھرا ہےپلکوں پہ ٹھہری یادیں، دل غم سے اب ابھرا ہے

verse

تیری خوشبو کا پیچھا کرتے، ہم کہاں سے کہاں آ گئےوہ جو باتیں تھیں کانوں میں، اب وہ سب کہاں چھا گئےتیرے بن یہ شہر سونا، جیسے ویران کوئی بستی ہوکیسے جیئیں اب ہم، جب ہر سانس اک نئی پیاسی ہو

pre-chorus

آسماں سے پوچھ لو، یہ ستارے گواہ ہیںہم نے جو دی تھی صدائیں، وہ ابھی تک فضا میں ہیں

chorus

مڑ کے دیکھو تو سہی، ہم کھڑے ہیں وہیںتیری چاہت میں جل کر، ہوئے اب ہم کہیں نہیںموسم بدلتے رہے، ہم نہ بدلے کبھیتیری الفت کا سایہ، ہے سر پہ اب بھی

bridge

کوئی رستہ نہ کوئی منزل، بس تیرا ہی خیال ہےاس تڑپتی ہوئی روح کا، تو ہی تو اک سوال ہےوقت کی لہروں میں بہہ گئے، وعدے سب ہی پرانےاب تو واپس آ جا، چھوڑ کر سب بہانے

instrumental-break
verse

دھند میں لپٹی ہوئی، وہ پرانی سی تصویریںکیسے مٹا دیں ہم، لکھی ہوئی یہ تقدیریںرات کا سناٹا کہے، اب بھی تو پاس ہےتیری کمی کا یہ احساس، اک زہرِ جاں ہے

chorus

مڑ کے دیکھو تو سہی، ہم کھڑے ہیں وہیںتیری چاہت میں جل کر، ہوئے اب ہم کہیں نہیںموسم بدلتے رہے، ہم نہ بدلے کبھیتیری الفت کا سایہ، ہے سر پہ اب بھی

outro

اب تو لوٹ آ، اے ہم سفرتیرے بنا، کٹتی نہیں یہ سحرصرف تیری ہی یادوں کا، اب بسیرا ہےتیرے بن، بس اندھیرا ہی اندھیرا ہے

تنہائی کی راہ

زین العابدین

Preview