Skip to content
Duration4:40

تیرے در کے مسافر

قافلہِ نور

حمد

About

ایک روایتی حمد جس میں ہارمونیم کی پرسوز دھن اور طبلہ کی دھیمی تھاپ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ یہ تخلیق ایک پرسکون اور روحانی ماحول پیدا کرتی ہے جہاں آواز کو نمایاں رکھا گیا ہے تاکہ کلام کی گہرائی اور عقیدت کا اظہار ہو سکے۔

Lyrics

intro

تیرے ہی نام سے آغازِ زندگی ہواتیرے ہی ذکر سے روشن ہر اک گلی ہواتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہے

verse

ذرے ذرے میں تیری شان نظر آتی ہےتیری قدرت کے گواہ سارے منظر ہیںکائنات کی وسعت میں تیری ہی جلوہ گریہم تو بس خاک ہیں، تیرے در کے مسافر ہیںتیرے ہی دم سے ہے دم، میری سانسوں کا سفرتو ہی ہے مالکِ ارض و سما، اے میرے رب

refrain

اے میرے رب، تیری عظمت کو سلامتیرے ہی نام سے منور، ہے صبح و شامتو ہی ہے غفار، تو ہی ہے رحیمتیری ہی رحمتوں کا ہے، ہم پر قیام

verse

جب کبھی دل پہ چھائے اندھیرا کوئیتیری یاد کا دیا، میں جلا لیتا ہوںتیری بخشی ہوئی ہر نعمت کا شکر کروںاپنی تنہائیوں میں، تجھ کو پا لیتا ہوںنہ کوئی ہمسر ہے تیرا، نہ کوئی ثانی ہےتو ہی ازل سے ہے، تو ہی ابد تک ہے

refrain

اے میرے رب، تیری عظمت کو سلامتیرے ہی نام سے منور، ہے صبح و شامتو ہی ہے غفار، تو ہی ہے رحیمتیری ہی رحمتوں کا ہے، ہم پر قیام

verse

کبھی سجدوں میں گر کر، آنسو بہائے ہیںکبھی خاموشیوں میں، تیرا نام لیا ہےتو نے ہی بخشا ہے، جینے کا حوصلہ مجھ کومیں نے ہر موڑ پر، تیرا کرم پایا ہےتیری عطا کی کوئی حد نہیں، اے میرے مولاتیرے در کے سوا، کوئی ٹھکانہ نہیں میرا

refrain

اے میرے رب، تیری عظمت کو سلامتیرے ہی نام سے منور، ہے صبح و شامتو ہی ہے غفار، تو ہی ہے رحیمتیری ہی رحمتوں کا ہے، ہم پر قیام

verse

پھولوں کی مہک میں، تیری خوشبو بسی ہےبارش کی ہر بوند میں، تیرا ہی رنگ ہےتیرے بندے گنہگار ہیں، پر تو ہے کریمتیری مغفرت کے طلبگار، ہم سنگ سنگ ہیںتو ہی ہے نور، تو ہی ہے میرا سہاراتجھ سے ہی روشن ہے، یہ جہاں سارا

refrain

اے میرے رب، تیری عظمت کو سلامتیرے ہی نام سے منور، ہے صبح و شامتو ہی ہے غفار، تو ہی ہے رحیمتیری ہی رحمتوں کا ہے، ہم پر قیام

outro

تیرے نام پر ہی، ختم یہ سفر ہوتیری رضا ہی، میری زندگی کا ثمر ہوبس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےاے میرے رب، اے میرے رب

تیرے در کے مسافر

قافلہِ نور

Preview

تیرے در کے مسافر by قافلہِ نور | EchoLoRA: Generate a Song with AI