تیرے در کے مسافر
قافلہِ نور
حمد
About
ایک روایتی حمد جس میں ہارمونیم کی پرسوز دھن اور طبلہ کی دھیمی تھاپ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ یہ تخلیق ایک پرسکون اور روحانی ماحول پیدا کرتی ہے جہاں آواز کو نمایاں رکھا گیا ہے تاکہ کلام کی گہرائی اور عقیدت کا اظہار ہو سکے۔
Lyrics
تیرے ہی نام سے آغازِ زندگی ہواتیرے ہی ذکر سے روشن ہر اک گلی ہواتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہے
ذرے ذرے میں تیری شان نظر آتی ہےتیری قدرت کے گواہ سارے منظر ہیںکائنات کی وسعت میں تیری ہی جلوہ گریہم تو بس خاک ہیں، تیرے در کے مسافر ہیںتیرے ہی دم سے ہے دم، میری سانسوں کا سفرتو ہی ہے مالکِ ارض و سما، اے میرے رب
اے میرے رب، تیری عظمت کو سلامتیرے ہی نام سے منور، ہے صبح و شامتو ہی ہے غفار، تو ہی ہے رحیمتیری ہی رحمتوں کا ہے، ہم پر قیام
جب کبھی دل پہ چھائے اندھیرا کوئیتیری یاد کا دیا، میں جلا لیتا ہوںتیری بخشی ہوئی ہر نعمت کا شکر کروںاپنی تنہائیوں میں، تجھ کو پا لیتا ہوںنہ کوئی ہمسر ہے تیرا، نہ کوئی ثانی ہےتو ہی ازل سے ہے، تو ہی ابد تک ہے
اے میرے رب، تیری عظمت کو سلامتیرے ہی نام سے منور، ہے صبح و شامتو ہی ہے غفار، تو ہی ہے رحیمتیری ہی رحمتوں کا ہے، ہم پر قیام
کبھی سجدوں میں گر کر، آنسو بہائے ہیںکبھی خاموشیوں میں، تیرا نام لیا ہےتو نے ہی بخشا ہے، جینے کا حوصلہ مجھ کومیں نے ہر موڑ پر، تیرا کرم پایا ہےتیری عطا کی کوئی حد نہیں، اے میرے مولاتیرے در کے سوا، کوئی ٹھکانہ نہیں میرا
اے میرے رب، تیری عظمت کو سلامتیرے ہی نام سے منور، ہے صبح و شامتو ہی ہے غفار، تو ہی ہے رحیمتیری ہی رحمتوں کا ہے، ہم پر قیام
پھولوں کی مہک میں، تیری خوشبو بسی ہےبارش کی ہر بوند میں، تیرا ہی رنگ ہےتیرے بندے گنہگار ہیں، پر تو ہے کریمتیری مغفرت کے طلبگار، ہم سنگ سنگ ہیںتو ہی ہے نور، تو ہی ہے میرا سہاراتجھ سے ہی روشن ہے، یہ جہاں سارا
اے میرے رب، تیری عظمت کو سلامتیرے ہی نام سے منور، ہے صبح و شامتو ہی ہے غفار، تو ہی ہے رحیمتیری ہی رحمتوں کا ہے، ہم پر قیام
تیرے نام پر ہی، ختم یہ سفر ہوتیری رضا ہی، میری زندگی کا ثمر ہوبس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےاے میرے رب، اے میرے رب
تیرے در کے مسافر
قافلہِ نور
Preview