آنکھوں کا ٹھہرا کارواں
چراغ بستی
غزل
About
ایک روایتی غزل جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کے نپے تلے تال کا امتزاج ہے۔ آواز پر مبنی مکس کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ شاعری کے گہرے جذبات اور درد کو پوری طرح محسوس کیا جا سکے۔
Lyrics
دل کی بستی میں چراغوں کا دھواں ہے اب بھیتیرے جانے کا مجھے سارا گماں ہے اب بھی
وہ جو اک پل کی ملاقات تھی، اک عمر بنیمیری آنکھوں میں وہ ٹھہرا ہوا کارواں ہے اب بھیہم نے سوچا تھا کہ بھول جائیں گے تیری یادیںمگر اس دل میں محبت کا نشاں ہے اب بھی
تیرے ہونے سے ہی روشن تھی میری دنیا سبتیرے بن، روح میں اک سرد سا اک جہاں ہے اب بھیتیرے جانے کا مجھے سارا گماں ہے اب بھی
کبھی فرصت ملے تو پلٹ کر دیکھنا ہم کوہماری سانسوں میں تیرا ہی اک نام رواں ہے اب بھیوہ جو وعدے تھے، وہ جو قسمیں تھیں، کہاں کھوئیں؟میری تنہائی میں وہ عہدِ کلاں ہے اب بھی
تیرے ہونے سے ہی روشن تھی میری دنیا سبتیرے بن، روح میں اک سرد سا اک جہاں ہے اب بھیتیرے جانے کا مجھے سارا گماں ہے اب بھی
اب تو بس خوابوں کے رستے پہ چلتے ہیں ہمدل کی بستی میں چراغوں کا دھواں ہے اب بھیتیرے جانے کا مجھے سارا گماں ہے اب بھی
آنکھوں کا ٹھہرا کارواں
چراغ بستی
Preview