Skip to content
Duration3:00

آنکھوں کا ٹھہرا کارواں

چراغ بستی

غزل

About

ایک روایتی غزل جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کے نپے تلے تال کا امتزاج ہے۔ آواز پر مبنی مکس کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ شاعری کے گہرے جذبات اور درد کو پوری طرح محسوس کیا جا سکے۔

Lyrics

intro

دل کی بستی میں چراغوں کا دھواں ہے اب بھیتیرے جانے کا مجھے سارا گماں ہے اب بھی

verse

وہ جو اک پل کی ملاقات تھی، اک عمر بنیمیری آنکھوں میں وہ ٹھہرا ہوا کارواں ہے اب بھیہم نے سوچا تھا کہ بھول جائیں گے تیری یادیںمگر اس دل میں محبت کا نشاں ہے اب بھی

refrain

تیرے ہونے سے ہی روشن تھی میری دنیا سبتیرے بن، روح میں اک سرد سا اک جہاں ہے اب بھیتیرے جانے کا مجھے سارا گماں ہے اب بھی

instrumental-break
verse

کبھی فرصت ملے تو پلٹ کر دیکھنا ہم کوہماری سانسوں میں تیرا ہی اک نام رواں ہے اب بھیوہ جو وعدے تھے، وہ جو قسمیں تھیں، کہاں کھوئیں؟میری تنہائی میں وہ عہدِ کلاں ہے اب بھی

refrain

تیرے ہونے سے ہی روشن تھی میری دنیا سبتیرے بن، روح میں اک سرد سا اک جہاں ہے اب بھیتیرے جانے کا مجھے سارا گماں ہے اب بھی

outro

اب تو بس خوابوں کے رستے پہ چلتے ہیں ہمدل کی بستی میں چراغوں کا دھواں ہے اب بھیتیرے جانے کا مجھے سارا گماں ہے اب بھی

آنکھوں کا ٹھہرا کارواں

چراغ بستی

Preview

آنکھوں کا ٹھہرا کارواں by چراغ بستی | EchoLoRA: Generate a Song with AI