بغاوتِ خاموش
نقوشِ سنگ
Pakistani Rock
About
ایک طاقتور پاکستانی راک ٹریک جو بھاری الیکٹرک گٹار کے ساتھ روایتی طبلہ کی تھاپ کو جوڑتا ہے۔ اس گانے میں سماجی شعور اور جذباتی شدت کو مشرقی راگوں کے امتزاج سے پیش کیا گیا ہے۔
Lyrics
دھول اڑتی ہے، سڑکیں خاموش ہیںکون جانے، یہاں کیا کیا مدہوش ہےوقت کی نبض پر ہاتھ رکھ کر دیکھہر سانس میں ایک طوفان روپوش ہے
بند کمروں میں حبس کا بسیرا ہےروشنی مانگنے نکلا، تو اندھیرا ہےہاتھ خالی ہیں، مگر آنکھوں میں خواب گہرے ہیںہم نے کب مانا کہ یہ راستہ تیرا ہےدیواریں اونچی، مگر ارادے بلند ہیںہم تو وہ ہیں جو خود اپنی ہی ضد میں بند ہیں
آسماں جھک رہا ہے، زمین کانپتی ہےسچائی کی تپش، اب رگوں میں ناچتی ہے
یہ آگ ہے، یہ راکھ ہے، یہ میری پہچان ہےٹوٹتے ہوئے خوابوں کا اب یہی آسمان ہےہم بدلیں گے، ہم چلیں گے، ہم ہی طوفان ہیںخاموشی توڑ کر، اب گونجتا میرا جہان ہے
پرانے کاغذوں پہ لکھی کہانی بدلیں گےہم اپنی ہی مٹی کی روانی بدلیں گےکچھ زخم پرانے ہیں، کچھ درد نئے ہیںہم اپنے لہو سے، اب یہ نشانی بدلیں گے
آسماں جھک رہا ہے، زمین کانپتی ہےسچائی کی تپش، اب رگوں میں ناچتی ہے
یہ آگ ہے، یہ راکھ ہے، یہ میری پہچان ہےٹوٹتے ہوئے خوابوں کا اب یہی آسمان ہےہم بدلیں گے، ہم چلیں گے، ہم ہی طوفان ہیںخاموشی توڑ کر، اب گونجتا میرا جہان ہے
کوئی زنجیر اب پیروں میں نہ ٹھہرے گییہ بے چین روح، اب خاموش نہ رہے گیجو بویا تھا کل، اب وہ فصل کاٹیں گےحقیقت ہر جھوٹ کا چہرہ اب بانٹیں گے
یہ آگ ہے، یہ راکھ ہے، یہ میری پہچان ہےٹوٹتے ہوئے خوابوں کا اب یہی آسمان ہےہم بدلیں گے، ہم چلیں گے، ہم ہی طوفان ہیںخاموشی توڑ کر، اب گونجتا میرا جہان ہے
اب گونجتا میرا جہان ہےاب گونجتا میرا جہان ہےہم ہیں، ہم ہی رہیں گےیہ طوفان، اب نہ تھمے گاصرف ہم، اور ہمارا آسمان۔
بغاوتِ خاموش
نقوشِ سنگ
Preview