حصارِ عشق
سوالیِ عشق
قوالی فیوژن
About
یہ قوالی فیوژن ٹریک روایتی ہارمونیم اور طبلہ کی تھاپ کو جدید الیکٹرانک بیٹس اور گٹار کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں صوفیانہ شاعری، پرجوش ہینڈ کلپنگ اور روحانی وجد کی کیفیت کو جدید ساؤنڈ ڈیزائن کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
Lyrics
تیرے در کا سوالی ہوں، تیرے در کی پکار ہوںمیں بھٹکا ہوا راہی، تیرے عشق کا شکار ہوںتیری ذات میں کھویا، اپنی ہستی مٹا بیٹھامیں خود سے جدا ہو کر، تیری ہی یاد کا حصار ہوں
دنیا کی رنگینیوں نے دل کو بہت الجھایا تھاسچائی کی تلاش میں ہر در کو میں نے آزمایا تھاپھر تیرے نام کی خوشبو نے رستہ دکھایا مجھ کووہ جو پردہ تھا آنکھوں پہ، وہ خود ہی اٹھایا تھا
تیرا عشق ہی میرا حاصل، تیرا ذکر ہی میری پہچانمیں تو مٹ رہا ہوں تجھ میں، تو ہی ہے میری جانتیرا عشق ہی میرا حاصل، تیرا ذکر ہی میری پہچاناے مالکِ کائنات، تجھ پہ قربان میری یہ آن
ہو... ہائے... مولیٰ...تیرے در پر، تیرے در پر...تیری طلب، تیری طلب...بے خودی، بے خودی...
مٹ گئے سب فاصلے، اب میں نہیں، صرف تو ہےذہن کے اندھیروں میں، تیرا ہی چار سو ہےہر سانس میں تیرا نام، ہر دھڑکن میں تیرا شورتیری محبت کے سمندر میں، دل اب بے قابو ہے
یہ انا کی دیواریں، اب گرنے لگی ہیں دیکھتیری تجلی نے مٹا دی، مجھ میں باقی ہر بھیکاب نہ کوئی اپنا ہے، نہ کوئی ہے پرایا یہاںصرف تیرے جلووں کی ہے ہر سو چمکتی ریکھ
تیرا عشق ہی میرا حاصل، تیرا ذکر ہی میری پہچانمیں تو مٹ رہا ہوں تجھ میں، تو ہی ہے میری جانتیرا عشق ہی میرا حاصل، تیرا ذکر ہی میری پہچاناے مالکِ کائنات، تجھ پہ قربان میری یہ آن
میں مٹ گیا، میں مٹ گیاتجھ میں ہی اب تو سمٹ گیابس تو ہی ہے، بس تو ہی ہےمیرا سفر، میرا گھر، میری آخری منزلبس تو ہی ہے، بس تو ہی ہے...
حصارِ عشق
سوالیِ عشق
Preview