Skip to content
حصارِ عشق
Duration4:09

حصارِ عشق

سوالیِ عشق

قوالی فیوژن

About

یہ قوالی فیوژن ٹریک روایتی ہارمونیم اور طبلہ کی تھاپ کو جدید الیکٹرانک بیٹس اور گٹار کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں صوفیانہ شاعری، پرجوش ہینڈ کلپنگ اور روحانی وجد کی کیفیت کو جدید ساؤنڈ ڈیزائن کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro

تیرے در کا سوالی ہوں، تیرے در کی پکار ہوںمیں بھٹکا ہوا راہی، تیرے عشق کا شکار ہوںتیری ذات میں کھویا، اپنی ہستی مٹا بیٹھامیں خود سے جدا ہو کر، تیری ہی یاد کا حصار ہوں

verse

دنیا کی رنگینیوں نے دل کو بہت الجھایا تھاسچائی کی تلاش میں ہر در کو میں نے آزمایا تھاپھر تیرے نام کی خوشبو نے رستہ دکھایا مجھ کووہ جو پردہ تھا آنکھوں پہ، وہ خود ہی اٹھایا تھا

chorus

تیرا عشق ہی میرا حاصل، تیرا ذکر ہی میری پہچانمیں تو مٹ رہا ہوں تجھ میں، تو ہی ہے میری جانتیرا عشق ہی میرا حاصل، تیرا ذکر ہی میری پہچاناے مالکِ کائنات، تجھ پہ قربان میری یہ آن

vocal improvisation

ہو... ہائے... مولیٰ...تیرے در پر، تیرے در پر...تیری طلب، تیری طلب...بے خودی، بے خودی...

drop

مٹ گئے سب فاصلے، اب میں نہیں، صرف تو ہےذہن کے اندھیروں میں، تیرا ہی چار سو ہےہر سانس میں تیرا نام، ہر دھڑکن میں تیرا شورتیری محبت کے سمندر میں، دل اب بے قابو ہے

verse

یہ انا کی دیواریں، اب گرنے لگی ہیں دیکھتیری تجلی نے مٹا دی، مجھ میں باقی ہر بھیکاب نہ کوئی اپنا ہے، نہ کوئی ہے پرایا یہاںصرف تیرے جلووں کی ہے ہر سو چمکتی ریکھ

chorus

تیرا عشق ہی میرا حاصل، تیرا ذکر ہی میری پہچانمیں تو مٹ رہا ہوں تجھ میں، تو ہی ہے میری جانتیرا عشق ہی میرا حاصل، تیرا ذکر ہی میری پہچاناے مالکِ کائنات، تجھ پہ قربان میری یہ آن

outro

میں مٹ گیا، میں مٹ گیاتجھ میں ہی اب تو سمٹ گیابس تو ہی ہے، بس تو ہی ہےمیرا سفر، میرا گھر، میری آخری منزلبس تو ہی ہے، بس تو ہی ہے...

حصارِ عشق

سوالیِ عشق

Preview