نورِ فنا
فقیرِ عشق
صوفیانہ قوالی
About
یہ کلام ایک گہرے روحانی سفر کی عکاسی کرتا ہے جس میں ہارمونیم کا مسلسل ڈرون اور طبلے کے پیچیدہ تال کا امتزاج ہے۔ اس میں پرجوش صوفیانہ انداز کی گلوکاری (ecstatic-vocal-delivery) شامل ہے جو سامعین کو ایک مراقبہ جیسی کیفیت میں لے جاتی ہے۔
Lyrics
تیرے نام کی لو لگی ہے دل میںخالی جھولی، بھر دے کرم سےمیں خاک ہوں، تو آفتاب ہےمیری ہستی، تیرا خواب ہے
راستہ بھٹکا، تو ملا ہے تومیری تنہائی کا صلہ ہے تومیں نے ڈھونڈا خود کو ہر سومگر خود میں، بس تو ہی تو ہےرنگ بدلتے موسموں کی طرحمیری روح، تجھ میں کھوئی ہوئی ہے
ہائے رے، ہائے رےیا رب، یا ربمستی میں ڈوبے، تیرے نام کےہو، ہو، ہو، ہو
عشق تیرا، دریا کا بہاؤمیں قطرہ بن کر، تجھ میں سماؤںتیری طلب میں، یہ سانسیں چلیںتیرے ملن کی، آس میں پلیںمیں مٹ جاؤں، تو باقی رہےتیری ذات، میری رگوں میں بہے
دنیا کی محفل، سراب ہےصرف تیرا ذکر، لاجواب ہےمیں کیا تھا، کچھ بھی نہیںتیری نظر، سب کچھ ہےخودی کو توڑ کر، تجھے پایااپنے اندر ہی، تجھے سجایا
میں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہےمیرا وجود، تیرا ہی عکس ہےنورِ ازل، چمک اٹھا ہےذرہ ذرہ، تجھ میں سما گیا ہےسب کچھ فنا، فقط تو باقی!
تیرے در کا، فقیر ہوں میںتیری یاد کا، اسیر ہوں میںبس تو ہی، بس تو ہیتو ہی، تو ہی...
نورِ فنا
فقیرِ عشق
Preview