Skip to content
Duration3:05

نورِ فنا

فقیرِ عشق

صوفیانہ قوالی

About

یہ کلام ایک گہرے روحانی سفر کی عکاسی کرتا ہے جس میں ہارمونیم کا مسلسل ڈرون اور طبلے کے پیچیدہ تال کا امتزاج ہے۔ اس میں پرجوش صوفیانہ انداز کی گلوکاری (ecstatic-vocal-delivery) شامل ہے جو سامعین کو ایک مراقبہ جیسی کیفیت میں لے جاتی ہے۔

Lyrics

intro

تیرے نام کی لو لگی ہے دل میںخالی جھولی، بھر دے کرم سےمیں خاک ہوں، تو آفتاب ہےمیری ہستی، تیرا خواب ہے

verse

راستہ بھٹکا، تو ملا ہے تومیری تنہائی کا صلہ ہے تومیں نے ڈھونڈا خود کو ہر سومگر خود میں، بس تو ہی تو ہےرنگ بدلتے موسموں کی طرحمیری روح، تجھ میں کھوئی ہوئی ہے

vocal-improvisation

ہائے رے، ہائے رےیا رب، یا ربمستی میں ڈوبے، تیرے نام کےہو، ہو، ہو، ہو

chorus

عشق تیرا، دریا کا بہاؤمیں قطرہ بن کر، تجھ میں سماؤںتیری طلب میں، یہ سانسیں چلیںتیرے ملن کی، آس میں پلیںمیں مٹ جاؤں، تو باقی رہےتیری ذات، میری رگوں میں بہے

verse

دنیا کی محفل، سراب ہےصرف تیرا ذکر، لاجواب ہےمیں کیا تھا، کچھ بھی نہیںتیری نظر، سب کچھ ہےخودی کو توڑ کر، تجھے پایااپنے اندر ہی، تجھے سجایا

climax

میں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہےمیرا وجود، تیرا ہی عکس ہےنورِ ازل، چمک اٹھا ہےذرہ ذرہ، تجھ میں سما گیا ہےسب کچھ فنا، فقط تو باقی!

outro

تیرے در کا، فقیر ہوں میںتیری یاد کا، اسیر ہوں میںبس تو ہی، بس تو ہیتو ہی، تو ہی...

نورِ فنا

فقیرِ عشق

Preview

نورِ فنا by فقیرِ عشق | EchoLoRA: Generate a Song with AI