Skip to content
جستجوئے فنا
Duration4:10

جستجوئے فنا

ذوالقرنین قادری

قوالی

About

ایک روایتی قوالی جو ہارمونیم کے گہرے ڈرون اور طبلے کی تیز تھاپ پر مبنی ہے۔ اس میں صوفیانہ کلام کو کال اینڈ ریسپانس انداز میں پیش کیا گیا ہے جس میں تالیوں کی گونج روحانی کیفیت پیدا کرتی ہے۔

Lyrics

intro

مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں گم ہوںبس اک تیری ہی جستجو ہےتیرے سوا سب خواب ہی خواب ہیںمیری روح میں تیری ہی گفتگو ہے

verse

میں تو اک ذرہ ہوں، تو آفتاب ہےمیری پیاس کا تو ہی تو جواب ہےکتنے موسم گزر گئے تیری راہ تکتےاب تو میرے دل کا کھل جا حجاب ہے

chorus

آجا کہ اب تو سانسیں بھی بوجھل ہیںتیری دید کی آس میں سب مشکلیں ہیںتو ہی منزل، تو ہی راستہ ہے میراتیرے قدموں میں میری سب منزلیں ہیں

rhythmic-break

مستی میں ڈوبے، خود کو بھلائےتیرے عشق میں ہم، سب کچھ گنوائےرنگِ حقیقت، نورِ ازل ہےتیری ہی یادیں، دل کو جلائے

crescendo

سجدہ ہو ایسا کہ سر نہ اٹھاؤںتیرے ذکر میں میں خود کو مٹاؤںتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےتجھ میں ہی کھو کر، تجھ کو ہی پاؤں

verse

یہ دنیا فانی، سب رنگِ سراب ہیںتیرے عشق کے جام، کتنے نایاب ہیںمیں تو بس اک قطرہ، تو سمندر ہےتیری موجوں میں میرے سب حساب ہیں

chorus

آجا کہ اب تو سانسیں بھی بوجھل ہیںتیری دید کی آس میں سب مشکلیں ہیںتو ہی منزل، تو ہی راستہ ہے میراتیرے قدموں میں میری سب منزلیں ہیں

outro

تجھ میں ہی کھو کر، تجھ کو ہی پاؤںتجھ میں ہی کھو کر، تجھ کو ہی پاؤںبس تیری ہی جستجو، بس تیری ہی جستجوخاموشی میں بھی، بس تیری ہی گفتگو

جستجوئے فنا

ذوالقرنین قادری

Preview

جستجوئے فنا by ذوالقرنین قادری | EchoLoRA: Generate a Song with AI