جستجوئے فنا
ذوالقرنین قادری
قوالی
About
ایک روایتی قوالی جو ہارمونیم کے گہرے ڈرون اور طبلے کی تیز تھاپ پر مبنی ہے۔ اس میں صوفیانہ کلام کو کال اینڈ ریسپانس انداز میں پیش کیا گیا ہے جس میں تالیوں کی گونج روحانی کیفیت پیدا کرتی ہے۔
Lyrics
مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں گم ہوںبس اک تیری ہی جستجو ہےتیرے سوا سب خواب ہی خواب ہیںمیری روح میں تیری ہی گفتگو ہے
میں تو اک ذرہ ہوں، تو آفتاب ہےمیری پیاس کا تو ہی تو جواب ہےکتنے موسم گزر گئے تیری راہ تکتےاب تو میرے دل کا کھل جا حجاب ہے
آجا کہ اب تو سانسیں بھی بوجھل ہیںتیری دید کی آس میں سب مشکلیں ہیںتو ہی منزل، تو ہی راستہ ہے میراتیرے قدموں میں میری سب منزلیں ہیں
مستی میں ڈوبے، خود کو بھلائےتیرے عشق میں ہم، سب کچھ گنوائےرنگِ حقیقت، نورِ ازل ہےتیری ہی یادیں، دل کو جلائے
سجدہ ہو ایسا کہ سر نہ اٹھاؤںتیرے ذکر میں میں خود کو مٹاؤںتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےتجھ میں ہی کھو کر، تجھ کو ہی پاؤں
یہ دنیا فانی، سب رنگِ سراب ہیںتیرے عشق کے جام، کتنے نایاب ہیںمیں تو بس اک قطرہ، تو سمندر ہےتیری موجوں میں میرے سب حساب ہیں
آجا کہ اب تو سانسیں بھی بوجھل ہیںتیری دید کی آس میں سب مشکلیں ہیںتو ہی منزل، تو ہی راستہ ہے میراتیرے قدموں میں میری سب منزلیں ہیں
تجھ میں ہی کھو کر، تجھ کو ہی پاؤںتجھ میں ہی کھو کر، تجھ کو ہی پاؤںبس تیری ہی جستجو، بس تیری ہی جستجوخاموشی میں بھی، بس تیری ہی گفتگو
جستجوئے فنا
ذوالقرنین قادری
Preview