Skip to content
Duration5:22

مٹی کا بندھن

روحانِ صوفی

پاکستانی لوک موسیقی

About

یہ گیت روایتی پاکستانی لوک موسیقی کا ایک شاہکار ہے جس میں ڈھول کی تھاپ، رباب کی گونج اور ہارمونیم کی مدھر دھنیں شامل ہیں۔ اس میں مائیکرو ٹونل آواز کے اتار چڑھاؤ اور نامیاتی پرکشن کی تہوں کا استعمال کیا گیا ہے جو صوفیانہ شاعری کی روح کو اجاگر کرتا ہے۔

Lyrics

intro

مٹی کی خوشبو میں بسی یادیںہواؤں کے دوش پر چلتی پرانی باتیںدل کے دریچے کھلے ہیں آج پھرکوئی تو ہے جو پکارتا ہے مجھے

verse

سہانی دھوپ میں کھیتوں کا رستہجہاں بچپن کا میرا بستہ تھا کھویاوہ پیپل کی چھاؤں، وہ ٹھنڈا پانیکیسی تھی وہ سادگی، کیسی تھی زندگانیوقت کی لہروں میں بہہ گئے خواب سبہاتھوں میں ریت کی طرح رہ گئے خواب سب

verse

ماں کی لوری کا وہ دھیما سا سرآنکھوں میں بستا ہے اب بھی وہ گھروہ چوکھٹ، وہ دہلیز، وہ پیار کا سایہمیں نے جہاں اپنا ہر دکھ بھلایااب تو بس یادوں کے دیپ جلتے ہیںتنہائی کے صحرا میں ہم چلتے ہیں

chorus

او رے مٹی کے بندے، سن لے ذرایہ سفر ہے تیرا، یہ ہے راستہخدا کی رضا میں ہی سب کچھ چھپا ہےمحبت کا جذبہ ہی سب سے بڑا ہےاو رے مٹی کے بندے، سن لے ذرا

instrumental-break
verse

شام ڈھلے جب پرندے لوٹ آتے ہیںدل کے ویرانوں میں شور مچاتے ہیںکوئی تو ہے جو دور کہیں گا رہا ہےروح کو اپنی طرف بلا رہا ہےیہ ہجر کا موسم، یہ جدائی کی راتکب ہوگی اب اپنی پھر سے ملاقات

verse

محبت کی آگ میں جو جل کے نکھرتے ہیںوہی لوگ تو منزلوں پہ اترتے ہیںنہ کوئی اپنا ہے، نہ کوئی پرایابس اس نے ہی ہر شے کو ہے سجایافنا ہو کے ملنا ہی بقا کا ہے رستہیہی تو ہے عشق کا اصل مسودہ

climax

جاگ اٹھا ہے دل کا ہر ایک تارآج برسے گا بن کے یہ پیارکوئی نہیں ہے، بس وہ ہی وہ ہےذات کے پردے میں وہی تو چھپا ہےسب کچھ مٹا دو، خود کو مٹا دوعشق کی راہ میں سب کچھ لٹا دو

chorus

او رے مٹی کے بندے، سن لے ذرایہ سفر ہے تیرا، یہ ہے راستہخدا کی رضا میں ہی سب کچھ چھپا ہےمحبت کا جذبہ ہی سب سے بڑا ہےاو رے مٹی کے بندے، سن لے ذرا

instrumental-break
outro

خاموشیوں میں بھی اک گونج ہےسچی طلب کی یہ ایک موج ہےچلتے رہو، بس چلتے رہواس نور کی کرن میں ڈھلتے رہوبس وہ ہی ہے، بس وہ ہی ہےمیرا سب کچھ اب وہی ہے

مٹی کا بندھن

روحانِ صوفی

Preview

مٹی کا بندھن by روحانِ صوفی | EchoLoRA: Generate a Song with AI