مٹی کا بندھن
روحانِ صوفی
پاکستانی لوک موسیقی
About
یہ گیت روایتی پاکستانی لوک موسیقی کا ایک شاہکار ہے جس میں ڈھول کی تھاپ، رباب کی گونج اور ہارمونیم کی مدھر دھنیں شامل ہیں۔ اس میں مائیکرو ٹونل آواز کے اتار چڑھاؤ اور نامیاتی پرکشن کی تہوں کا استعمال کیا گیا ہے جو صوفیانہ شاعری کی روح کو اجاگر کرتا ہے۔
Lyrics
مٹی کی خوشبو میں بسی یادیںہواؤں کے دوش پر چلتی پرانی باتیںدل کے دریچے کھلے ہیں آج پھرکوئی تو ہے جو پکارتا ہے مجھے
سہانی دھوپ میں کھیتوں کا رستہجہاں بچپن کا میرا بستہ تھا کھویاوہ پیپل کی چھاؤں، وہ ٹھنڈا پانیکیسی تھی وہ سادگی، کیسی تھی زندگانیوقت کی لہروں میں بہہ گئے خواب سبہاتھوں میں ریت کی طرح رہ گئے خواب سب
ماں کی لوری کا وہ دھیما سا سرآنکھوں میں بستا ہے اب بھی وہ گھروہ چوکھٹ، وہ دہلیز، وہ پیار کا سایہمیں نے جہاں اپنا ہر دکھ بھلایااب تو بس یادوں کے دیپ جلتے ہیںتنہائی کے صحرا میں ہم چلتے ہیں
او رے مٹی کے بندے، سن لے ذرایہ سفر ہے تیرا، یہ ہے راستہخدا کی رضا میں ہی سب کچھ چھپا ہےمحبت کا جذبہ ہی سب سے بڑا ہےاو رے مٹی کے بندے، سن لے ذرا
شام ڈھلے جب پرندے لوٹ آتے ہیںدل کے ویرانوں میں شور مچاتے ہیںکوئی تو ہے جو دور کہیں گا رہا ہےروح کو اپنی طرف بلا رہا ہےیہ ہجر کا موسم، یہ جدائی کی راتکب ہوگی اب اپنی پھر سے ملاقات
محبت کی آگ میں جو جل کے نکھرتے ہیںوہی لوگ تو منزلوں پہ اترتے ہیںنہ کوئی اپنا ہے، نہ کوئی پرایابس اس نے ہی ہر شے کو ہے سجایافنا ہو کے ملنا ہی بقا کا ہے رستہیہی تو ہے عشق کا اصل مسودہ
جاگ اٹھا ہے دل کا ہر ایک تارآج برسے گا بن کے یہ پیارکوئی نہیں ہے، بس وہ ہی وہ ہےذات کے پردے میں وہی تو چھپا ہےسب کچھ مٹا دو، خود کو مٹا دوعشق کی راہ میں سب کچھ لٹا دو
او رے مٹی کے بندے، سن لے ذرایہ سفر ہے تیرا، یہ ہے راستہخدا کی رضا میں ہی سب کچھ چھپا ہےمحبت کا جذبہ ہی سب سے بڑا ہےاو رے مٹی کے بندے، سن لے ذرا
خاموشیوں میں بھی اک گونج ہےسچی طلب کی یہ ایک موج ہےچلتے رہو، بس چلتے رہواس نور کی کرن میں ڈھلتے رہوبس وہ ہی ہے، بس وہ ہی ہےمیرا سب کچھ اب وہی ہے
مٹی کا بندھن
روحانِ صوفی
Preview