سفرِ لاحاصل
روحان راز
کوک اسٹوڈیو فیوژن
About
ایک گہرا اور روحانی ٹریک جو روایتی رباب اور طبلہ کی تال کو جدید الیکٹرانک سنتھسائزر کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں ایک جذباتی آواز کی کارکردگی شامل ہے جو صوفیانہ شاعری کو جدید پاپ کے انداز میں پیش کرتی ہے۔
Lyrics
تیرے نام کی تسبیح ہے، سانسوں کا یہ سلسلہخاموشیوں میں گونجتا، اک ان دیکھا سا فاصلہدرد کی دستک، روح کی پکاربکھرتی یادوں کا یہ کارواں
راستہ ہے انجان، قدم ہیں تھکے ہوئےدل کے کسی کونے میں خواب ہیں چھپے ہوئےکبھی جو مسکراتے تھے، اب وہ لب خاموش ہیںہم اپنی ہی تلاش میں، خود سے ہی مدہوش ہیں
مٹی کی خوشبو میں، تیری ہی بات ہےاندھیری شب میں بھی، اجلی سی رات ہےجڑیں ہیں گہری، آسماں کو چھو رہی ہیںدعائیں میری، اب تیرے در کو دھوپ دے رہی ہیں
پیاس ہے صدیوں کی، نم ہے اب آنکھیںکیسے بیاں کریں، یہ دل کی جھلکیں
او میرے مولا، تیری چاہت کا یہ رنگ ہےاس بے کراں جہاں میں، بس تیرا ہی سنگ ہےہر ذرہ بولتا ہے، تیری ہی داستانتو ہی ہے روح، تو ہی ہے میری پہچان
کبھی جو ملتے تھے، وہ پل کہاں گئےوقت کی دھول میں، خوش رنگ پھول کہاں گئےپر امید ہوں میں، کہ صبح پھر آئے گیتاریک رات، خود اپنی منزل پائے گی
شور ہے باہر، اندر اک سناٹا ہےہر موڑ پر، کوئی نیا اک ناطہ ہےمیں ڈھونڈتا ہوں تجھے، اپنی ہی ذات میںتو چھپا بیٹھا ہے، میری ہر بات میں
یہ سفر کٹھن سہی، پر تو ساتھ ہےتیری رحمت کا، سر پہ ہاتھ ہےگرتے ہوئے کو، تو نے ہی سنبھالااندھیروں میں بھی، تو نے ہی اجالا
او میرے مولا، تیری چاہت کا یہ رنگ ہےاس بے کراں جہاں میں، بس تیرا ہی سنگ ہےہر ذرہ بولتا ہے، تیری ہی داستانتو ہی ہے روح، تو ہی ہے میری پہچان
چلتے چلتے، تھک نہ جانا اے مسافرتیری منزل ہے، تیری اپنی ہی خاطرروشنی بن کے، خود میں ہی اتر جااپنی حقیقت سے، ذرا تو سنور جا
تیرے نام کی تسبیح، سانسوں کا یہ سلسلہتیرے ہی دم سے، سجا یہ قافلہتیرے ہی دم سے، سجا یہ قافلہبس تو ہی، بس تو ہی...میری پہچان...میری پہچان...
سفرِ لاحاصل
روحان راز
Preview