رقصِ فنا
آتشِ وجد
صوفی راک
About
ایک طاقتور صوفی راک ٹریک جس میں روایتی طبلہ اور ہارمونیم کی دھنوں کو جدید ڈسٹارٹڈ الیکٹرک گٹار کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ اس میں جذباتی اور بلند آواز میں گائی گئی شاعری صوفیانہ وجد کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔
Lyrics
میں کون ہوں، یہ راز مجھ سے چھپا ہےمیری روح کا ہر ذرہ، اسی کا پتا ہےتلاشِ حق میں نکلا ہوں، خود کو مٹانےیہ سفر ہی تو اصل میں، اس تک جانے کا راستہ ہے
دردِ دل کی آگ میں، سب کچھ جلا ڈالامیں نے اپنا ہر ایک نقش، مٹا ڈالانہ کوئی منزل باقی، نہ کوئی ٹھکانہ رہااس کے عشق میں، میں نے خود کو پا لیا
آنکھوں میں نمی ہے، اور دل میں اک پکارمیری ہستی کا ہر ایک لمحہ، ہے تیرا انتظارتیرے سوا کچھ نہیں، میری حقیقت میںتو ہی تو ہے، میری ہر ایک سانس کی حدت میں
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیری رگ رگ میں بسا، تو ہی تو روشن ہےمیں تو اک قطرہ ہوں، تیری ذاتِ بے کراں کامیری زندگی کا مقصد، بس تیرا ہی دامن ہے
خودی کے بت کو توڑ کر، میں نے کیا پایااپنے ہی اندر کے سحر کو، میں نے آزمایانہ مسجد کی ضرورت، نہ مندر کا کوئی خوفمیں نے تیرے ہی نام کو، اپنا کلام بنایا
مٹ گیا میں، تو تو ہی بچاخاموشیوں میں بھی، تیرا ہی شور مچایہ رقصِ فنا، یہ عشق کی انتہاتجھ سے شروع، اور تجھ پر ہی ختم ہوا
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیری رگ رگ میں بسا، تو ہی تو روشن ہےمیں تو اک قطرہ ہوں، تیری ذاتِ بے کراں کامیری زندگی کا مقصد، بس تیرا ہی دامن ہے
بس تیرا ہی دامن ہےمیں مٹ گیا، تو ہی تو ہےتجھ میں گم، تجھ میں ہی رہنا ہےاب نہ کوئی فاصلہ، اب نہ کوئی کہنا ہےبس تو ہی تو ہے...بس تو ہی تو ہے...
رقصِ فنا
آتشِ وجد
Preview