خوابوں کا صحرا
نسیم شبنم
پاکستانی فلمی موسیقی
About
ایک جذباتی اور سنیماٹک گیت جس میں روایتی طبلہ اور ہارمونیم کو جدید تاروں کی آرکیسٹرا کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ یہ دھن تنہائی اور کھوئی ہوئی محبت کی یادوں کو بیان کرتی ہے، جس میں ایک گہرا اور پراسرار صوتی ماحول پیدا کیا گیا ہے۔
Lyrics
تنہائی کی دیواروں پر، یادوں کے کچھ سائے ہیںاک خواب ادھورا چھوڑ کے ہم، کس بستی میں آئے ہیں
راستہ ہے کہ کٹتا نہیں، فاصلہ ہے کہ مٹتا نہیںدل کی بستی میں اب کوئی، چراغ بھی تو جلتا نہیںتیرے بن یہ سونی شامیں، جیسے بکھرے ہوئے خواب ہوںاپنی ہی ذات کے صحرا میں، ہم خود ہی تو سراب ہوں
آنکھیں ڈھونڈیں تجھے ہر موڑ پر، دل کو تیرا ہی انتظار ہےیہ کیسا درد ہے جو سینے میں، بن کے اک یادگار ہے
تیرے بن جی تو لیں گے، مگر یہ زندگی ادھوری ہےتیری خوشبو سے محروم، یہ سانسیں کتنی ضروری ہیںمحبت کی اس راہ میں ہم نے، سب کچھ ہی تو کھو دیاتیرے نام پہ لکھ کے خود کو، ہم نے خود کو ہی رو دیا
وہ باتیں، وہ ہنستی شامیں، اب بس ایک قصہ بن گئیںمیری تنہا راتوں کی تاریکی، اب میرا حصہ بن گئیںکبھی ملنا ہو تو آنا، اسی پرانی سی گلی میںجہاں ہم نے سچائی ڈھونڈی تھی، جھوٹ کی اس حویلی میں
وقت کے اس دھارے میں، سب کچھ بہہ سا جاتا ہےکوئی اپنا ہو کے بھی، پرایا کیوں ہو جاتا ہےتیرے بن یہ دل کی دھڑکن، جیسے تھم سی گئی ہوخاموشی کے اس شور میں، جیسے روح بکھر سی گئی ہو
تیرے بن جی تو لیں گے، مگر یہ زندگی ادھوری ہےتیری خوشبو سے محروم، یہ سانسیں کتنی ضروری ہیںمحبت کی اس راہ میں ہم نے، سب کچھ ہی تو کھو دیاتیرے نام پہ لکھ کے خود کو، ہم نے خود کو ہی رو دیا
اب تو بس یادیں ہیں، اور خاموشیاںتیرے بن کٹ رہی ہیں، یہ سب آزمائشیںبس یادیں ہیں...بس تنہائیاں...
خوابوں کا صحرا
نسیم شبنم
Preview