خزاں کی طرح
شہریار رانا
پاکستانی فلمی موسیقی
About
یہ گیت ایک کلاسک لالی ووڈ طرز کی کمپوزیشن ہے جس میں طبلے کی گہری تھاپ اور وائلن کی جذباتی دھنوں کو جدید سنتھیسائزر کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ اس میں ایک مرد گلوگار کی پر سوز آواز شامل ہے جو تنہائی اور جدائی کے درد کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔
Lyrics
تنہائیوں کی دھند میں، کھوئی ہوئی ہے اک صدادل کے کسی کونے میں اب، باقی نہیں کوئی دعاخاموشیوں کا بوجھ ہے، پلکوں پہ تھمتی نمیتیرے بغیر اب تو ہے، دنیا یہ جیسے اک کمی
گلیوں کے ان موڑوں پہ، اب بھی تیری آہٹ ملےخوابوں کے اس شہر میں، ہم خود سے ہی کیوں جا ملیںوہ تیرا ہنس کے دیکھنا، وہ بات کرنا پیار سےاب زخم بن کے چبھتی ہے، یادیں تری ہر بار سے
موسم بدلتے دیکھ کر، میں سوچتا ہوں بارہاتجھ کو بھی کیا آتی ہے، میری کبھی کوئی صدا؟کیا فاصلے مٹا سکے، وہ عہد جو ہم نے کیے؟یا وقت کی لہروں میں سب، بہہ کر کہیں دور گئے؟
تُو پاس ہو تو زندگی، اک گلستاں کی طرح ہےتُو دور ہو تو سانس بھی، جیسے خزاں کی طرح ہےمیں ڈھونڈتا ہوں خود کو اب، تیری ہی ان آنکھوں میںبچھڑ کے ہم تو جل رہے، یادوں کی ان شعلوں میں
تصویر تیری دیکھ کر، ٹھہر سا جاتا ہے سماںکیسے بھلائیں گے تجھے، یہ دل ہے اب بھی بے اماںوہ وعدے وہ اقرار کیا، سب جھوٹ تھے یا خواب تھے؟یا ہم ہی ناداں تھے جو بس، اپنی ہی زد پہ ناب تھے
راتیں طویل ہو گئیں، دن بن گئے ہیں اک سزاتیرے بنا جی تو رہے، پر ہے نہیں یہ زندگیکاش کہ لوٹ آئے وہ، گزرے ہوئے سب دن کبھیپھر سے بکھر جائیں گے ہم، خوشبو کی مانند کہیں
تُو پاس ہو تو زندگی، اک گلستاں کی طرح ہےتُو دور ہو تو سانس بھی، جیسے خزاں کی طرح ہےمیں ڈھونڈتا ہوں خود کو اب، تیری ہی ان آنکھوں میںبچھڑ کے ہم تو جل رہے، یادوں کی ان شعلوں میں
خاموش ہے اب کارواں، منزل کا کوئی پتا نہیںتیرے سوا اس دل کو اب، اور کوئی بھی ملا نہیںبس یادیں باقی رہ گئیں، اک دھندلا سا ہے نشانتیرے بنا اب ادھورا، میرا یہ سارا جہاں
خزاں کی طرح
شہریار رانا
Preview