ذاتِ حق کا پکار
رنگِ مولا قوال
قوالی
About
یہ قوالی ایک روایتی صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی گونج اور طبلہ کی تیز تال شامل ہے۔ اس میں کال اینڈ ریسپانس گلوکاری اور تالیوں کی تھاپ کے ذریعے روحانی وجد کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی التجا ہےمیری ہر سانس میں بس تیرا ہی ذکر بسا ہےمدتوں سے بھٹکتا رہا ہوں میں راہوں میںاب تو آ جا کہ دل کا ہر اک زخم ہرا ہے
میں تو اک قطرہ ہوں، تو سمندر کی لہر ہےمیری ہستی تیری ذات کا ایک شہر ہےمیں نے پایا تجھے تو خود کو کھو دیا میں نےیہ کیسا عشق ہے، کیسا یہ قہر ہے
مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ لے مولامیرے دل کی دھڑکنوں کو مانگ لے مولاتیری چوکھٹ پہ سر جھکائے بیٹھا ہوںمیری توبہ کو اب تو قبول مانگ لے مولا
ہو... حق موجود!حق موجود!ذاتِ حق، سب سے بلندحق موجود!
خودی کا بت توڑ کر میں تیرے پاس آیا ہوںمیں اپنی انا کو خود ہی مٹا کر لایا ہوںنہ کوئی منزل ہے باقی، نہ کوئی راستہمیں تو بس تیری محبت میں ہی سمایا ہوں
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےتیری ہی روشنی سے یہ سارا عالم روشن ہےمٹا دے فاصلے سارے، ملا دے مجھ کو مجھ سےتیرے ہی دم سے تو یہ میری روح کا گلشن ہے
مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ لے مولامیرے دل کی دھڑکنوں کو مانگ لے مولاتیری چوکھٹ پہ سر جھکائے بیٹھا ہوںمیری توبہ کو اب تو قبول مانگ لے مولا
بس تو ہی باقی رہے، میں مٹ جاؤںتیری یادوں کے سائے میں ہی بٹ جاؤںحق... حق... حق...تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےحق موجود، حق موجود۔
ذاتِ حق کا پکار
رنگِ مولا قوال
Preview