Skip to content
ذاتِ حق کا پکار
Duration3:18

ذاتِ حق کا پکار

رنگِ مولا قوال

قوالی

About

یہ قوالی ایک روایتی صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی گونج اور طبلہ کی تیز تال شامل ہے۔ اس میں کال اینڈ ریسپانس گلوکاری اور تالیوں کی تھاپ کے ذریعے روحانی وجد کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

Lyrics

intro

تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی التجا ہےمیری ہر سانس میں بس تیرا ہی ذکر بسا ہےمدتوں سے بھٹکتا رہا ہوں میں راہوں میںاب تو آ جا کہ دل کا ہر اک زخم ہرا ہے

verse

میں تو اک قطرہ ہوں، تو سمندر کی لہر ہےمیری ہستی تیری ذات کا ایک شہر ہےمیں نے پایا تجھے تو خود کو کھو دیا میں نےیہ کیسا عشق ہے، کیسا یہ قہر ہے

chorus

مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ لے مولامیرے دل کی دھڑکنوں کو مانگ لے مولاتیری چوکھٹ پہ سر جھکائے بیٹھا ہوںمیری توبہ کو اب تو قبول مانگ لے مولا

rhythmic-break

ہو... حق موجود!حق موجود!ذاتِ حق، سب سے بلندحق موجود!

verse

خودی کا بت توڑ کر میں تیرے پاس آیا ہوںمیں اپنی انا کو خود ہی مٹا کر لایا ہوںنہ کوئی منزل ہے باقی، نہ کوئی راستہمیں تو بس تیری محبت میں ہی سمایا ہوں

crescendo

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےتیری ہی روشنی سے یہ سارا عالم روشن ہےمٹا دے فاصلے سارے، ملا دے مجھ کو مجھ سےتیرے ہی دم سے تو یہ میری روح کا گلشن ہے

chorus

مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ لے مولامیرے دل کی دھڑکنوں کو مانگ لے مولاتیری چوکھٹ پہ سر جھکائے بیٹھا ہوںمیری توبہ کو اب تو قبول مانگ لے مولا

outro

بس تو ہی باقی رہے، میں مٹ جاؤںتیری یادوں کے سائے میں ہی بٹ جاؤںحق... حق... حق...تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےحق موجود، حق موجود۔

ذاتِ حق کا پکار

رنگِ مولا قوال

Preview