ٹوٹے ہوئے آئینے کا کرب
سایہِ زنجیر
پاکستانی راک
About
یہ گیت مشرقی راگوں اور مغربی راک کے امتزاج سے تیار کردہ ایک جذباتی اور پرجوش ٹریک ہے۔ اس میں ہائی گین الیکٹرک گٹار اور روایتی طبلے کا بہترین توازن موجود ہے جو سماجی بے چینی اور داخلی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔
Lyrics
سوئی ہوئی راتوں کی دہلیز پر خاموشی کا شور ہےبجھتے ہوئے چراغوں میں اب بھی کوئی خواب باقی ہے
گلیوں کی خاک چھانتے ہوئے تھک گئے ہیں یہ قدم دیواروں پر لکھی ہوئی بے بسی کی داستانیںہم نے دیکھی ہیں بدلتی ہوئی ان آنکھوں کی نمیکب تک چھپائیں گے ہم اس جلتی ہوئی آگ کو
ہواؤں کا رخ بدل رہا ہےپرانے سب وعدے پگھل رہے ہیںآسمان کی طرف اٹھتی یہ خالی نگاہیںکچھ تو کہتی ہیں
یہ کیسا سفر ہے، یہ کیسا جنون ہےرگوں میں دوڑتا ہوا، لہو کا سکون ہےہم تو بس سچ کی تلاش میں نکلے تھےیہ ٹوٹا ہوا آئینہ، اب اپنا ہی خون ہے
بند کمروں میں قید ہیں وہ سب پرانے چراغ جو کبھی روشن کرتے تھے اندھیری راتوں کواب تو بس سایوں کا پہرہ ہےہر ایک موڑ پرکون سنے گا اس دل کی دبی ہوئی فریاد کو
زنجیریں توڑنے کی ہمت اب بھی باقی ہے کہیں ان مٹھیوں میں بند طوفانوں کا شور ہے اب نہ رکنا ہے ہمیں نہ جھکنا ہے کہیں
یہ کیسا سفر ہے، یہ کیسا جنون ہےرگوں میں دوڑتا ہوا، لہو کا سکون ہےہم تو بس سچ کی تلاش میں نکلے تھےیہ ٹوٹا ہوا آئینہ، اب اپنا ہی خون ہے
خون ہے...یہ اپنا ہی خون ہے...جاگ اٹھو، اب وقت ہےجاگ اٹھو، اب وقت ہے...
ٹوٹے ہوئے آئینے کا کرب
سایہِ زنجیر
Preview