Skip to content
Duration3:48

ٹوٹے ہوئے آئینے کا کرب

سایہِ زنجیر

پاکستانی راک

About

یہ گیت مشرقی راگوں اور مغربی راک کے امتزاج سے تیار کردہ ایک جذباتی اور پرجوش ٹریک ہے۔ اس میں ہائی گین الیکٹرک گٹار اور روایتی طبلے کا بہترین توازن موجود ہے جو سماجی بے چینی اور داخلی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔

Lyrics

intro

سوئی ہوئی راتوں کی دہلیز پر خاموشی کا شور ہےبجھتے ہوئے چراغوں میں اب بھی کوئی خواب باقی ہے

verse

گلیوں کی خاک چھانتے ہوئے تھک گئے ہیں یہ قدم دیواروں پر لکھی ہوئی بے بسی کی داستانیںہم نے دیکھی ہیں بدلتی ہوئی ان آنکھوں کی نمیکب تک چھپائیں گے ہم اس جلتی ہوئی آگ کو

pre-chorus

ہواؤں کا رخ بدل رہا ہےپرانے سب وعدے پگھل رہے ہیںآسمان کی طرف اٹھتی یہ خالی نگاہیںکچھ تو کہتی ہیں

chorus

یہ کیسا سفر ہے، یہ کیسا جنون ہےرگوں میں دوڑتا ہوا، لہو کا سکون ہےہم تو بس سچ کی تلاش میں نکلے تھےیہ ٹوٹا ہوا آئینہ، اب اپنا ہی خون ہے

verse

بند کمروں میں قید ہیں وہ سب پرانے چراغ جو کبھی روشن کرتے تھے اندھیری راتوں کواب تو بس سایوں کا پہرہ ہےہر ایک موڑ پرکون سنے گا اس دل کی دبی ہوئی فریاد کو

bridge

زنجیریں توڑنے کی ہمت اب بھی باقی ہے کہیں ان مٹھیوں میں بند طوفانوں کا شور ہے اب نہ رکنا ہے ہمیں نہ جھکنا ہے کہیں

tabla-solo
guitar-solo
chorus

یہ کیسا سفر ہے، یہ کیسا جنون ہےرگوں میں دوڑتا ہوا، لہو کا سکون ہےہم تو بس سچ کی تلاش میں نکلے تھےیہ ٹوٹا ہوا آئینہ، اب اپنا ہی خون ہے

outro

خون ہے...یہ اپنا ہی خون ہے...جاگ اٹھو، اب وقت ہےجاگ اٹھو، اب وقت ہے...

ٹوٹے ہوئے آئینے کا کرب

سایہِ زنجیر

Preview

ٹوٹے ہوئے آئینے کا کرب by سایہِ زنجیر | EchoLoRA: Generate a Song with AI