Skip to content
Duration3:55

دیوانہِ حق

قلندر شاہ

صوفی

About

یہ کلام ایک گہرا صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیئم کا گونجتا ہوا ڈرون، طبلہ کے پیچیدہ تال اور پرجوش صوفیانہ آواز شامل ہے۔ اس کی پروڈکشن میں لائیو پرفارمنس کی روح کو برقرار رکھا گیا ہے تاکہ سننے والے کو روحانی وجد کی کیفیت محسوس ہو۔

Lyrics

intro

تیرے عشق کی مے نے کیا ہے دیوانہمیری روح کا ہے اب اک ہی ٹھکانہنہ خود کی خبر ہے نہ دنیا کا دھیانتیرے نام پر ہی ہے اب میرا ایمان

verse

میں بھٹکتا رہا تھا اندھیروں کی گلی میںتیری یاد کی شمع تھی میری ہی کلی میںمیں نے ڈھونڈا تجھے ہر اک ذرے کے اندرتو ہی تو ہے چھپا ہوا میرے ہر اک منظریہ دنیا تو بس اک فریبِ نظر ہےتیری ذات ہی اصل میں میرا گھر ہے

chorus

مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ لے مولامیری ہستی کو اپنے میں کر دے تو مولامیں تو پیاسا ہوں تیری ایک نظر کاتو ہی مالک ہے میرے اس سفر کا

vocal-improvisation

ہو... ہائے...یا مولا... یا علی... یا حق...میری سانسوں میں تیرا ہی نام ہےمیری آنکھوں میں تیرا ہی کام ہےہو... تیرا ہی کام ہے...

verse

نہ کوئی فاصلہ ہے نہ کوئی پردہ باقیمیری روح نے پی لی ہے تیری محبت ساقیمیں ٹوٹ کر بکھرا تھا خود کے ہی اندرتو نے سنبھالا ہے مجھے ہو کر قلندراب جو بھی ہے میرا وہ تیرا ہی ہےیہ دل تو بس تیرا ہی ایک کٹورا ہے

climax

میں مٹا تو تبھی تو میں پایا تجھےمیں نے کھو کر ہی اکثر ہے پایا تجھےیہ فنا کا راستہ ہے کتنا حسیںتیرے عشق میں ڈوب کر ہی ہوں میں کہیںہو... تیرے عشق میں...

outro

تیرا ہی نام ہے...تیرا ہی کام ہے...میں تو بس تیرا ہوں...تو ہی میرا ہے...خاموشی میں اب تیرا ہی ذکر ہےمیری روح کا اب تو ہی تو فکر ہے

دیوانہِ حق

قلندر شاہ

Preview

دیوانہِ حق by قلندر شاہ | EchoLoRA: Generate a Song with AI