دیوانہِ حق
قلندر شاہ
صوفی
About
یہ کلام ایک گہرا صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیئم کا گونجتا ہوا ڈرون، طبلہ کے پیچیدہ تال اور پرجوش صوفیانہ آواز شامل ہے۔ اس کی پروڈکشن میں لائیو پرفارمنس کی روح کو برقرار رکھا گیا ہے تاکہ سننے والے کو روحانی وجد کی کیفیت محسوس ہو۔
Lyrics
تیرے عشق کی مے نے کیا ہے دیوانہمیری روح کا ہے اب اک ہی ٹھکانہنہ خود کی خبر ہے نہ دنیا کا دھیانتیرے نام پر ہی ہے اب میرا ایمان
میں بھٹکتا رہا تھا اندھیروں کی گلی میںتیری یاد کی شمع تھی میری ہی کلی میںمیں نے ڈھونڈا تجھے ہر اک ذرے کے اندرتو ہی تو ہے چھپا ہوا میرے ہر اک منظریہ دنیا تو بس اک فریبِ نظر ہےتیری ذات ہی اصل میں میرا گھر ہے
مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ لے مولامیری ہستی کو اپنے میں کر دے تو مولامیں تو پیاسا ہوں تیری ایک نظر کاتو ہی مالک ہے میرے اس سفر کا
ہو... ہائے...یا مولا... یا علی... یا حق...میری سانسوں میں تیرا ہی نام ہےمیری آنکھوں میں تیرا ہی کام ہےہو... تیرا ہی کام ہے...
نہ کوئی فاصلہ ہے نہ کوئی پردہ باقیمیری روح نے پی لی ہے تیری محبت ساقیمیں ٹوٹ کر بکھرا تھا خود کے ہی اندرتو نے سنبھالا ہے مجھے ہو کر قلندراب جو بھی ہے میرا وہ تیرا ہی ہےیہ دل تو بس تیرا ہی ایک کٹورا ہے
میں مٹا تو تبھی تو میں پایا تجھےمیں نے کھو کر ہی اکثر ہے پایا تجھےیہ فنا کا راستہ ہے کتنا حسیںتیرے عشق میں ڈوب کر ہی ہوں میں کہیںہو... تیرے عشق میں...
تیرا ہی نام ہے...تیرا ہی کام ہے...میں تو بس تیرا ہوں...تو ہی میرا ہے...خاموشی میں اب تیرا ہی ذکر ہےمیری روح کا اب تو ہی تو فکر ہے
دیوانہِ حق
قلندر شاہ
Preview