خاموشیوں کی رم جھم
زینب حیات
پاکستانی پاپ
About
یہ گانا روایتی طبلہ کی تھاپ اور جدید سنتھسائزر کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں جذباتی آواز کے ساتھ ایک دلکش پاپ دھن شامل ہے۔ اس کی پروڈکشن میں مشرقی راگوں کی گہرائی اور مغربی الیکٹرانک بیٹس کا بہترین توازن موجود ہے۔
Lyrics
تنہائیوں کا یہ سفرآنکھوں میں بسا ہے تیرا ہی اثرخوابوں کی دھند میں کھوئے ہوئےہم خود سے ہی ہیں دور ہوئے
گلیوں کی ان ویرانیوں میںتیری یادوں کی مہک بکھری ہےسرد راتوں کی خاموشیوں میںتیری باتوں کی رم جھم ٹھہری ہےدھڑکنوں نے کیا کیا نہ کہاپر تو نے کچھ بھی نہ سنا
مڑ کے جو دیکھا تو کوئی نہیںتیرے سوا کوئی اپنا نہیںدل کی لگی ہے یہ کیسی پیاساب تو بس آ جا میرے پاس
تو ہی تو ہے میری دھڑکن کا سازتیرے بنا ہے سب کچھ ناراضاک تیرا نام ہی وردِ زباںتو ہی ہے میری بکھری داستاںآ جا کہ اب ہم نہ سہہ پائیں گےتیرے بغیر ہم بکھر جائیں گے
ہواؤں کے جھونکے لائے ہیں پیغامتیری خوشبو سے مہکے ہیں در و بامشہر کی بھیڑ میں ڈھونڈوں تجھےکیسے جیوں گا میں اب تیرے بناوقت کی قید سے آزاد کرمجھے پھر سے کوئی تو یاد کر
فاصلے یہ مٹا دے ذرااک بار تو مسکرا دے ذرایہ زندگی ہے تیری امانتتجھ سے ہی ہے میری یہ قیامت
تو ہی تو ہے میری دھڑکن کا سازتیرے بنا ہے سب کچھ ناراضاک تیرا نام ہی وردِ زباںتو ہی ہے میری بکھری داستاںآ جا کہ اب ہم نہ سہہ پائیں گےتیرے بغیر ہم بکھر جائیں گے
بکھر جائیں گےبس تیری ہی یاد میںگزر جائیں گےتیرے ہی خیال میںخاموشیاں...تنہائیاں...
خاموشیوں کی رم جھم
زینب حیات
Preview