حجابِ ہستی
آتشِ عرفان
صوفی راک
About
یہ گیت روایتی صوفی کلام کو جدید راک سازوں کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں طبلہ کی گونج اور ہارمونیم کی دلکش دھنوں کے ساتھ ہائی رجسٹر صوتی انداز شامل ہے جو ایک روحانی اور پرجوش کیفیت پیدا کرتا ہے۔
Lyrics
میں ہوں اور یہ ویرانی ہےتجھ سے ہی میری کہانی ہے
در بدر پھرتا ہوں میں تیری ہی جستجو میںخاک ہوا ہوں تیرے ہی کوچۂ آرزو میںمیری سانسوں کی ڈور تیرے ہاتھ میں ہےمیں تو گم ہوں بس تیری ہی گفتگو میں
آنکھیں میری راہ تکتی ہیںدل میں تیری یاد بستی ہے
تو ہی نورِ نظر، تو ہی میرا جہاںتیری چاہت میں مٹ گئے ہم کہاںتو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخرتیری ہی بندگی، تیری ہی داستاں
میں نے خود کو مٹایا تو تجھ کو پایااپنے ہی وجود کا حجاب اٹھایاکیسی یہ کشش ہے جو کھینچے لیے جائےمیں تو تیری ہی ذات میں کھو گیا، سمایا
تو ہی نورِ نظر، تو ہی میرا جہاںتیری چاہت میں مٹ گئے ہم کہاںتو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخرتیری ہی بندگی، تیری ہی داستاں
کوئی نہیں ہے، کوئی نہیں ہےتیرے سوا کچھ بھی نہیں ہےمیں ہوں فنا، تو ہے بقاسجدوں میں میری یہی التجا
تو ہی نورِ نظر، تو ہی میرا جہاںتیری چاہت میں مٹ گئے ہم کہاںتو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخرتیری ہی بندگی، تیری ہی داستاں
تیری ہی بندگی...تجھ میں ہی میری گمشدگی...بس تو ہی، بس تو ہی...
حجابِ ہستی
آتشِ عرفان
Preview