Skip to content
حجابِ ہستی
Duration4:56

حجابِ ہستی

آتشِ عرفان

صوفی راک

About

یہ گیت روایتی صوفی کلام کو جدید راک سازوں کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں طبلہ کی گونج اور ہارمونیم کی دلکش دھنوں کے ساتھ ہائی رجسٹر صوتی انداز شامل ہے جو ایک روحانی اور پرجوش کیفیت پیدا کرتا ہے۔

Lyrics

intro

میں ہوں اور یہ ویرانی ہےتجھ سے ہی میری کہانی ہے

verse 1

در بدر پھرتا ہوں میں تیری ہی جستجو میںخاک ہوا ہوں تیرے ہی کوچۂ آرزو میںمیری سانسوں کی ڈور تیرے ہاتھ میں ہےمیں تو گم ہوں بس تیری ہی گفتگو میں

pre-chorus

آنکھیں میری راہ تکتی ہیںدل میں تیری یاد بستی ہے

chorus

تو ہی نورِ نظر، تو ہی میرا جہاںتیری چاہت میں مٹ گئے ہم کہاںتو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخرتیری ہی بندگی، تیری ہی داستاں

verse 2

میں نے خود کو مٹایا تو تجھ کو پایااپنے ہی وجود کا حجاب اٹھایاکیسی یہ کشش ہے جو کھینچے لیے جائےمیں تو تیری ہی ذات میں کھو گیا، سمایا

chorus

تو ہی نورِ نظر، تو ہی میرا جہاںتیری چاہت میں مٹ گئے ہم کہاںتو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخرتیری ہی بندگی، تیری ہی داستاں

bridge

کوئی نہیں ہے، کوئی نہیں ہےتیرے سوا کچھ بھی نہیں ہےمیں ہوں فنا، تو ہے بقاسجدوں میں میری یہی التجا

instrumental-solo
chorus

تو ہی نورِ نظر، تو ہی میرا جہاںتیری چاہت میں مٹ گئے ہم کہاںتو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخرتیری ہی بندگی، تیری ہی داستاں

outro

تیری ہی بندگی...تجھ میں ہی میری گمشدگی...بس تو ہی، بس تو ہی...

حجابِ ہستی

آتشِ عرفان

Preview