لاہوتی سفر
شمسِ تبریزِ نو
Sufi
About
یہ کلام ایک گہرا صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کے مسلسل ڈرون اور طبلہ کے پیچیدہ تال کا امتزاج ہے۔ اس میں جذباتی اور وجدانی انداز میں گائی گئی شاعری روح کی خالق سے ملاقات کی تڑپ کو بیان کرتی ہے۔
Lyrics
میں ہوں اور یہ ویرانی ہےتجھ سے ہی میری کہانی ہےقطرہ ہوں میں سمندر کاتیری ذات ہی میری پیشانی ہے
میں نے ڈھونڈا تجھے ہر اک گلی میںتیرا عکس دیکھا ہر اک کلی میںمیں گم تھا خود میں، تو مجھ میں بسا تھاتجھے پایا میں نے، اپنی ہی بے بسی میںیہ سانسیں تیری امانت ہیںیہ دل تیری ہی عبادت ہے
تو ہی اول، تو ہی آخرتیری چاہت کا ہے یہ منظرمیں مٹ جاؤں تو تو ہی بچےاے میرے مالک، اے میرے رہبرسب کچھ تیرے ہی دم سے ہےمیرا وجود بس تیرے غم سے ہے
ہو، ہائے رے، عشقِ حقیقیہو، دل کا سکون، تو ہی تو ہےتڑپ، یہ تڑپ، میری پہچان ہےتجھ سے ہی میری ہر اک آن ہے
دنیا کی محفلیں سب فانی ہیںیہ رنگ و بو سب عارضی کہانی ہیںمیں نے توڑا ہے خود کو زمانے سےتیری طرف میری ہر اک روانی ہےتو روح ہے، میں بس اک سایہ ہوںتیری دہلیز پر ہی تو آیا ہوں
تو ہی اول، تو ہی آخرتیری چاہت کا ہے یہ منظرمیں مٹ جاؤں تو تو ہی بچےاے میرے مالک، اے میرے رہبرسب کچھ تیرے ہی دم سے ہےمیرا وجود بس تیرے غم سے ہے
میں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تو ہےذرہ ذرہ تیری ہی گفتگو ہےخودی کا پردہ ہٹا دے میرے مولایہ دیدارِ یار، میری آرزو ہےسب کچھ تیرا، سب کچھ تیرامیں تو بس ایک خالی سبو ہے
نہ کوئی دوری، نہ کوئی فاصلہ ہےتیرا نور ہر طرف پھیلا ہوا ہےمیں خود کو بھول کر تجھ میں سمایایہ کیسا عشق، کیسا یہ نشہ ہےتیری یاد میں، میں جی رہا ہوںتیری پیاس میں، میں پی رہا ہوں
ہو، آ جا، اب تو آ جادل کے دریچے میں آ جاتیرے سوا کوئی نہیںمیرا خدا، میرا رہنماہائے رے، عشقِ الٰہی
تو ہی اول، تو ہی آخرتیری چاہت کا ہے یہ منظرمیں مٹ جاؤں تو تو ہی بچےاے میرے مالک، اے میرے رہبرسب کچھ تیرے ہی دم سے ہےمیرا وجود بس تیرے غم سے ہے
میں مٹ گیا، میں مٹ گیاتیری ذات میں، میں سمٹ گیااب نہ میں ہوں، نہ میری ہستی ہےبس تیری ہی تو بندگی ہےبس تیری ہی تو بندگی ہےبس تیری ہی تو بندگی ہے
لاہوتی سفر
شمسِ تبریزِ نو
Preview