وحدت کا سفر
راکِ روح
صوفی راک
About
یہ گیت روایتی صوفی کلام اور جدید راک موسیقی کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں طبلے کی تھاپ اور ہارمونیم کی سریلی دھنوں کے ساتھ الیکٹرک گٹار کا گہرا ڈسٹورشن شامل ہے۔ اس میں جذباتی اور بلند سروں والی گائیکی کا استعمال کیا گیا ہے جو سننے والے کو ایک روحانی کیفیت میں لے جاتی ہے۔
Lyrics
میں ہوں، تو ہے، یا یہ سب اک خواب ہے؟ذات کے اس پار، یہ کیسا حجاب ہے؟
تلاش میں نکلا تھا میں اپنی ہی ذات کیملا جو یار تو، مٹ گئی ہر بات ہییہ ریت، یہ رستے، یہ چلتی ہوئی ہواسب تجھ سے منسوب، سب تیرا ہی تو ہے پتا
آنکھیں بند کروں تو تیرا ہی عکس ہےسانسوں میں بسی، تیری ہی تو لمس ہےکیسا یہ نشہ ہے، کیسا یہ سرور ہےدل کا ہر گوشہ، تیرے ہی نور سے معمور ہے
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیری روح کا، تو ہی تو مسکن ہےمیں مٹا تو پایا، تیری ہی قربت کوعشق میں ڈوب کر، پا لیا ہم نے وحدت کو
خود کو جو ڈھونڈا، تو تو ہی نظر آیامجھ میں چھپا تھا، جو میں نے نہ پایایہ تڑپ، یہ پیاس، یہ جینے کا ڈھنگرنگ گیا تجھ میں، ہو کر تیرے ہی رنگ
سر تسلیم خم ہے، اب تو دربار میںکھو گیا ہوں میں، تیرے ہی پیار میںنہ کوئی دوری ہے، نہ کوئی فاصلہتو ہی تو ہے بس، مٹا ہر سوال کا سلسلہ
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیری روح کا، تو ہی تو مسکن ہےمیں مٹا تو پایا، تیری ہی قربت کوعشق میں ڈوب کر، پا لیا ہم نے وحدت کو
خاموشی میں بھی، تیرا ہی شور ہےدل کا ہر ذرہ، تیری ہی اور ہےبس تو ہی، بس تو ہی...بس تو ہی، بس تو ہی...
وحدت کا سفر
راکِ روح
Preview