Skip to content
♪
Duration4:14

وحدت کا سفر

راکِ روح

صوفی راک

About

یہ گیت روایتی صوفی کلام اور جدید راک موسیقی کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں طبلے کی تھاپ اور ہارمونیم کی سریلی دھنوں کے ساتھ الیکٹرک گٹار کا گہرا ڈسٹورشن شامل ہے۔ اس میں جذباتی اور بلند سروں والی گائیکی کا استعمال کیا گیا ہے جو سننے والے کو ایک روحانی کیفیت میں لے جاتی ہے۔

Lyrics

intro

میں ہوں، تو ہے، یا یہ سب اک خواب ہے؟ذات کے اس پار، یہ کیسا حجاب ہے؟

verse

تلاش میں نکلا تھا میں اپنی ہی ذات کیملا جو یار تو، مٹ گئی ہر بات ہییہ ریت، یہ رستے، یہ چلتی ہوئی ہواسب تجھ سے منسوب، سب تیرا ہی تو ہے پتا

pre-chorus

آنکھیں بند کروں تو تیرا ہی عکس ہےسانسوں میں بسی، تیری ہی تو لمس ہےکیسا یہ نشہ ہے، کیسا یہ سرور ہےدل کا ہر گوشہ، تیرے ہی نور سے معمور ہے

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیری روح کا، تو ہی تو مسکن ہےمیں مٹا تو پایا، تیری ہی قربت کوعشق میں ڈوب کر، پا لیا ہم نے وحدت کو

verse

خود کو جو ڈھونڈا، تو تو ہی نظر آیامجھ میں چھپا تھا، جو میں نے نہ پایایہ تڑپ، یہ پیاس، یہ جینے کا ڈھنگرنگ گیا تجھ میں، ہو کر تیرے ہی رنگ

instrumental-solo
bridge

سر تسلیم خم ہے، اب تو دربار میںکھو گیا ہوں میں، تیرے ہی پیار میںنہ کوئی دوری ہے، نہ کوئی فاصلہتو ہی تو ہے بس، مٹا ہر سوال کا سلسلہ

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیری روح کا، تو ہی تو مسکن ہےمیں مٹا تو پایا، تیری ہی قربت کوعشق میں ڈوب کر، پا لیا ہم نے وحدت کو

outro

خاموشی میں بھی، تیرا ہی شور ہےدل کا ہر ذرہ، تیری ہی اور ہےبس تو ہی، بس تو ہی...بس تو ہی، بس تو ہی...

وحدت کا سفر

راکِ روح

Preview