Skip to content
Duration3:59

نئی تقدیر

راکھ کا سورج

پاکستانی راک

About

ایک طاقتور راک ٹریک جس میں الیکٹرک گٹار کے بھاری ڈسٹورشن اور روایتی طبلے کی تھاپ کا حسین امتزاج ہے۔ گانے کا مرکزی خیال سماجی بیداری اور خود مختاری کے گرد گھومتا ہے، جس میں مشرقی راگوں پر مبنی سریلی آواز کا استعمال کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro

گھٹی ہوئی سانسوں کا یہ شہرِ خموشاں ہےدیواروں کے پیچھے چھپا سارا دھواں ہےوقت کی نبض پر ہاتھ رکھ کر دیکھ ذراہر قدم پر اک نیا امتحان ہے

verse

سڑکوں پہ بکھرے ہوئے خوابوں کے ٹکڑےانکھون میں قید ہیں وہ پرانے جھگڑےہم نے سیکھا نہیں سر جھکا کر چلناپاؤں میں زنجیریں، مگر پھر بھی ہم آگےراکھ کے ڈھیر سے کوئی چنگاری تو نکلےاندھیری رات میں کوئی سورج تو ڈھلے

pre-chorus

آواز اٹھا، یہ خاموشی توڑ دےجو بندھن ہیں پاؤں کے، انہیں تو چھوڑ دےیہ بوجھ جو روح پر ہے، اسے اتار پھینکاپنے ہی ہاتھوں سے نئی تقدیر لکھ

chorus

او میرے ہم سفر، یہ راستہ بدلنا ہےگرتے ہوئے ستاروں کو اب سنبھلنا ہےہم مٹی کے دیے ہیں، طوفانوں سے لڑیں گےاپنی ہی دھن میں اب ہم نکلیں گےہاں، ہم نکلیں گے

verse

کھڑکی سے جھانکتی وہ اداس سی شامیںکتابوں میں دفن ہیں وہ اپنی کہانیاںسب کچھ بدل گیا، بس یہ درد وہی ہےہماری ہی جستجو میں، ہم ہی کھو گئےکوئی تو پوچھے، یہ کیسا ہے دورِ حاضرسچ بولنا یہاں بن گیا ہے اک جرمِ نادر

pre-chorus

آواز اٹھا، یہ خاموشی توڑ دےجو بندھن ہیں پاؤں کے، انہیں تو چھوڑ دےیہ بوجھ جو روح پر ہے، اسے اتار پھینکاپنے ہی ہاتھوں سے نئی تقدیر لکھ

chorus

او میرے ہم سفر، یہ راستہ بدلنا ہےگرتے ہوئے ستاروں کو اب سنبھلنا ہےہم مٹی کے دیے ہیں، طوفانوں سے لڑیں گےاپنی ہی دھن میں اب ہم نکلیں گے

bridge

دھوپ کے ٹکڑے اب چھاؤں میں بدلنے لگےخواب جو دیکھے تھے، اب وہ پلنے لگےڈر کی دیواریں گرانے کا وقت آ گیااپنے ہی لہو سے اب چراغ جلنے لگے

tabla-solo
guitar-solo
chorus

او میرے ہم سفر، یہ راستہ بدلنا ہےگرتے ہوئے ستاروں کو اب سنبھلنا ہےہم مٹی کے دیے ہیں، طوفانوں سے لڑیں گےاپنی ہی دھن میں اب ہم نکلیں گے

outro

نکلیں گے، اب ہم نکلیں گےراستے بدلیں گےآواز بنیں گےصرف ہم، اب صرف ہم۔

نئی تقدیر

راکھ کا سورج

Preview

نئی تقدیر by راکھ کا سورج | EchoLoRA: Generate a Song with AI