Skip to content
شہرِ خاموشاں
Duration4:05

شہرِ خاموشاں

شہریار قادری

غزل

About

ایک گہری اور جذباتی غزل جس میں ہارمونیم کی مدھر دھن اور طبلہ کی نپی تلی تھاپ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس گانے کا ووکل سینٹرڈ مکس شاعرانہ باریکیوں اور آواز کے اتار چڑھاؤ کو اجاگر کرتا ہے، جو سننے والے کو ایک پرسکون اور اداس کیفیت میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro
verse

تیرے آنے کی آہٹ سے یہ دل دھڑکتا ہےتیری یادوں کا موسم اب بھی برستا ہےمیں نے چھپائے ہیں کتنے ہی درد سینے میںمگر یہ شہرِ خاموشاں میرا حال پوچھتا ہے

refrain

تیرے بن جینا بھی کیا جینا ہے اے ہمدمہر ایک پل میں تیرا ہی نام گونجتا ہےتیرے بن جینا بھی کیا جینا ہے اے ہمدمہر ایک پل میں تیرا ہی نام گونجتا ہے

verse

کبھی جو خواب بن کر میری آنکھوں میں آتے تھےوہ سارے نقشِ پا اب ریت پر مٹتے دکھائی دیتے ہیںمیں ڈھونڈتا ہوں تجھے ہر ایک موڑ پر اکثرمگر یہ راستے تو اب انجان سے لگتے ہیں

verse

دیارِ غیر میں تنہا کھڑا ہوں میں کب سےمیری ہنسی میں بھی اب اک اداسی چھپی ہےکبھی تو لوٹ کر آؤ گے تم اسی در پریہ آس دل میں ابھی تک چراغ بن کر جلتی ہے

refrain

تیرے بن جینا بھی کیا جینا ہے اے ہمدمہر ایک پل میں تیرا ہی نام گونجتا ہےتیرے بن جینا بھی کیا جینا ہے اے ہمدمہر ایک پل میں تیرا ہی نام گونجتا ہے

instrumental-break
verse

اندھیری رات میں تارے بھی اب نہیں ملتےمیری دعا کے لفظ بھی اب اثر کھوتے جاتے ہیںتمہارے ہجر کی شدت سے تھک گیا ہوں میںیہ آنسو ہیں کہ اب خود سے بھی چھپتے نہیں

verse

کبھی جو پھول کھلے تھے ہماری چاہت میںوہ آج سوکھ کر خاکِ رہ گزر بن گئے ہیںمیں خود کو ڈھونڈتا ہوں اپنی ہی محفل میںمگر سب لوگ اب میرے لیے بیگانے ہوئے ہیں

refrain

تیرے بن جینا بھی کیا جینا ہے اے ہمدمہر ایک پل میں تیرا ہی نام گونجتا ہےتیرے بن جینا بھی کیا جینا ہے اے ہمدمہر ایک پل میں تیرا ہی نام گونجتا ہے

outro

نام گونجتا ہے، تیرا ہی نام گونجتا ہےخاموشیوں میں بھی، تیرا ہی نام گونجتا ہےبس تیرا ہی نام گونجتا ہے...

شہرِ خاموشاں

شہریار قادری

Preview