سجدہِ بے خودی
شمسِ وحدت قوال
قوالی
About
یہ قوالی ایک جذباتی روحانی سفر ہے جو ہارمونیم کی گونج اور طبلے کی تیز تھاپ کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ اس میں روایتی کال اینڈ رسپانس اور تالیوں کا استعمال کیا گیا ہے جو سامعین کو وجد کی کیفیت میں لے جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
Lyrics
تیرے در کا سوالی ہوں، میں کب سے انتظار میں ہوںتیری رحمت کا طالب ہوں، میں اپنی ہی پکار میں ہوں
مٹ گئے ہیں نشانِ ہستی، بس ایک تیرا نام باقی ہےخاک ہو کر بھی دل میں، تیرے عشق کا مقام باقی ہےمیں نے دیکھا ہے تجھے، ہر ذرے کی چمک میں ساقیمیری آنکھوں میں اب بھی، تیرے جلووں کا جام باقی ہے
مجھ کو اپنے رنگ میں رنگ لے، اے میرے پیرِ طریقتمیں ہوں بھٹکا ہوا راہی، تو ہی دے مجھ کو ہدایتتیرے نام پہ قربان، یہ میری روح کا ہر اک لمحہتیرے عشق میں ہی پوشیدہ، میری حیات کی حقیقت
ہو... حق موجود!ہو... حق موجود!دل کی دھڑکن پہ لکھا ہے، تیرا ہی ناملب پہ جاری ہے ہر دم، تیرا ہی کام
کبھی ظلمتوں میں بھٹکا، کبھی روشنی کا متلاشیتیری دہلیز پہ آ کر، مٹی میری ہر اک عیاشیتیرے در کی غلامی ہی، میری سب سے بڑی دولتمیں تو خالی ہاتھ آیا، لے کے ٹوٹے ہوئے دل کی کاشی
تیرا جلوہ ہے ہر سو، میں کہاں خود کو چھپاؤں؟تیری مستی میں ڈوب کر، میں کہاں ہوش میں آؤں؟یہ جو کائنات ہے ساری، تیری ذات کا ہے عکسمیں تو مٹ جانا چاہتا ہوں، تجھ میں ہی کھو جاؤں!تجھ میں ہی کھو جاؤں!
مجھ کو اپنے رنگ میں رنگ لے، اے میرے پیرِ طریقتمیں ہوں بھٹکا ہوا راہی، تو ہی دے مجھ کو ہدایتتیرے نام پہ قربان، یہ میری روح کا ہر اک لمحہتیرے عشق میں ہی پوشیدہ، میری حیات کی حقیقت
بس تو ہی تو ہے، باقی سب خواب ہےتیری محبت ہی، میرا جواب ہےحق موجود... حق موجود...تیرے سوا کچھ نہیں، کچھ نہیں...کچھ نہیں...
سجدہِ بے خودی
شمسِ وحدت قوال
Preview