Skip to content
Duration3:50

سجدہِ بے خودی

شمسِ وحدت قوال

قوالی

About

یہ قوالی ایک جذباتی روحانی سفر ہے جو ہارمونیم کی گونج اور طبلے کی تیز تھاپ کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ اس میں روایتی کال اینڈ رسپانس اور تالیوں کا استعمال کیا گیا ہے جو سامعین کو وجد کی کیفیت میں لے جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro

تیرے در کا سوالی ہوں، میں کب سے انتظار میں ہوںتیری رحمت کا طالب ہوں، میں اپنی ہی پکار میں ہوں

verse

مٹ گئے ہیں نشانِ ہستی، بس ایک تیرا نام باقی ہےخاک ہو کر بھی دل میں، تیرے عشق کا مقام باقی ہےمیں نے دیکھا ہے تجھے، ہر ذرے کی چمک میں ساقیمیری آنکھوں میں اب بھی، تیرے جلووں کا جام باقی ہے

chorus

مجھ کو اپنے رنگ میں رنگ لے، اے میرے پیرِ طریقتمیں ہوں بھٹکا ہوا راہی، تو ہی دے مجھ کو ہدایتتیرے نام پہ قربان، یہ میری روح کا ہر اک لمحہتیرے عشق میں ہی پوشیدہ، میری حیات کی حقیقت

rhythmic-break

ہو... حق موجود!ہو... حق موجود!دل کی دھڑکن پہ لکھا ہے، تیرا ہی ناملب پہ جاری ہے ہر دم، تیرا ہی کام

verse

کبھی ظلمتوں میں بھٹکا، کبھی روشنی کا متلاشیتیری دہلیز پہ آ کر، مٹی میری ہر اک عیاشیتیرے در کی غلامی ہی، میری سب سے بڑی دولتمیں تو خالی ہاتھ آیا، لے کے ٹوٹے ہوئے دل کی کاشی

crescendo

تیرا جلوہ ہے ہر سو، میں کہاں خود کو چھپاؤں؟تیری مستی میں ڈوب کر، میں کہاں ہوش میں آؤں؟یہ جو کائنات ہے ساری، تیری ذات کا ہے عکسمیں تو مٹ جانا چاہتا ہوں، تجھ میں ہی کھو جاؤں!تجھ میں ہی کھو جاؤں!

chorus

مجھ کو اپنے رنگ میں رنگ لے، اے میرے پیرِ طریقتمیں ہوں بھٹکا ہوا راہی، تو ہی دے مجھ کو ہدایتتیرے نام پہ قربان، یہ میری روح کا ہر اک لمحہتیرے عشق میں ہی پوشیدہ، میری حیات کی حقیقت

outro

بس تو ہی تو ہے، باقی سب خواب ہےتیری محبت ہی، میرا جواب ہےحق موجود... حق موجود...تیرے سوا کچھ نہیں، کچھ نہیں...کچھ نہیں...

سجدہِ بے خودی

شمسِ وحدت قوال

Preview

سجدہِ بے خودی by شمسِ وحدت قوال | EchoLoRA: Generate a Song with AI