Skip to content
Duration3:33

خوابوں کے کتبے

آفتاب عالم شیرازی

غزل

About

یہ غزل ایک انتہائی جذباتی اور صوتی اعتبار سے بھرپور تخلیق ہے جس میں ہارمونیم کی مدھر دھن اور طبلہ کی روایتی تال کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ووکل سینٹرڈ مکس کے ذریعے شاعرانہ باریکیوں اور آواز کے اتار چڑھاؤ کو نمایاں کیا گیا ہے جو سننے والے کو ایک گہری داخلی کیفیت میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro
verse

تیرے آنے کی آہٹ سے، یہ دل اب بھی دھڑکتا ہےوہ جو وعدہ کیا تھا تو نے، وہ اب بھی یاد رہتا ہےتیری یادوں کے موسم میں، خزاں کی دھوپ پھیلی ہےمیرے گھر کے اندھیروں میں، کوئی چراغ جلتا ہے

refrain

تیرے بن جینا کیسا ہے، یہ کوئی مجھ سے پوچھے گاتیری الفت کا یہ قصہ، اب ہر اک لب پہ رہتا ہےتیرے بن جینا کیسا ہے، یہ کوئی مجھ سے پوچھے گا

verse

میں ڈھونڈوں خود کو رستوں میں، جہاں ہم ساتھ چلتے تھےوہ باتوں کی مٹھاس اب بھی، میری روح میں بستا ہےستارے ٹوٹ کر گرتے ہیں، میری تنہائی کی شب میںکوئی خوابوں کے ٹکڑوں سے، مرا گھر پھر بناتا ہے

refrain

تیرے بن جینا کیسا ہے، یہ کوئی مجھ سے پوچھے گاتیری الفت کا یہ قصہ، اب ہر اک لب پہ رہتا ہے

instrumental-break
verse

یہ کیسی پیاس ہے دل میں، جو بجھ کر بھی نہیں بجھتیترا چہرہ ہی نظروں میں، ہر اک پل جھلملاتا ہےمیں لکھتا ہوں ترا نام، ہواؤں کے کتبوں پرمگر مٹ جاتی ہیں تحریریں، یہ دل پھر بھی لکھتا ہے

refrain

تیرے بن جینا کیسا ہے، یہ کوئی مجھ سے پوچھے گاتیری الفت کا یہ قصہ، اب ہر اک لب پہ رہتا ہے

outro

خاموشی بول اٹھتی ہے، ترا ذکر جب بھی ہوتا ہےیہ دل کا درد ہے پیارے، جو خاموشی میں پلتا ہےتیرے بن جینا کیسا ہے...تیرے بن جینا کیسا ہے...

خوابوں کے کتبے

آفتاب عالم شیرازی

Preview

خوابوں کے کتبے by آفتاب عالم شیرازی | EchoLoRA: Generate a Song with AI