رنگِ الٰہی
فیضانِ قوالی گروپ
قوالی
About
یہ قوالی ایک روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گہری گونج اور طبلے کی پیچیدہ تالوں کا امتزاج ہے۔ اس میں روایتی کال اینڈ رسپانس اور تالیوں کی تھاپ کے ساتھ ایک پرجوش کریسینڈو تخلیق کیا گیا ہے جو سامعین کو وجد کی کیفیت میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
مے خانہِ ہستی میں یہ کیسا سرور ہےذاتِ حق کی تجلی سے من منور ہےجو ڈھونڈتے تھے باہر وہ پا لیا اندریہ دل اب عشقِ حقیقی کا ایک سمندر ہے
تیرے نام کی تسبیح ہے میری سانسوں میںتیری یاد کی خوشبو ہے میری یادوں میںمیں خاک تھا، تو نے بنایا مجھے انسانتیرا ہی عکس چھپا ہے میری آنکھوں میں
ہو، رنگِ الٰہی چھایا ہےدل نے تجھ کو ہی پایا ہےمٹ گئی خودی، مٹ گئی دوریصرف تو، صرف تو، تو ہی تو ہے
کبھی نہ بجھنے والی یہ پیاس کیسی ہےتیرے ملن کی یہ تڑپ خاص کیسی ہےمیں تو گم ہو گیا تیری گلیوں میں جا کریہ روح کی بے چینی، یہ احساس کیسی ہے
یا رب، تیرا کرم ہے یہیا رب، تیرا ہی دم ہے یہمیں نہیں، میں نہیں، میں نہیںسب تیرا ہی تو کرم ہے یہ
سجدوں میں لرزتی ہے میری روح کی صداہر ذرے میں پوشیدہ ہے تیرا ہی خدابے خودی میں ڈوب کر یہ پکارتا ہے دلتو ہی میرا مقصد، تو ہی میرا مدعا
ہو، رنگِ الٰہی چھایا ہےدل نے تجھ کو ہی پایا ہےمٹ گئی خودی، مٹ گئی دوریصرف تو، صرف تو، تو ہی تو ہے
خاموشی میں بھی تیرا ہی چرچا ہےہر پل تیرا ہی تو جلوہ ہےمیں مٹ گیا، میں مٹ گیابس تیرا ہی تو جلوہ ہےصرف تو، صرف تو، تو ہی تو ہے
رنگِ الٰہی
فیضانِ قوالی گروپ
Preview