Skip to content
Duration3:40

رنگِ الٰہی

فیضانِ قوالی گروپ

قوالی

About

یہ قوالی ایک روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گہری گونج اور طبلے کی پیچیدہ تالوں کا امتزاج ہے۔ اس میں روایتی کال اینڈ رسپانس اور تالیوں کی تھاپ کے ساتھ ایک پرجوش کریسینڈو تخلیق کیا گیا ہے جو سامعین کو وجد کی کیفیت میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro

مے خانہِ ہستی میں یہ کیسا سرور ہےذاتِ حق کی تجلی سے من منور ہےجو ڈھونڈتے تھے باہر وہ پا لیا اندریہ دل اب عشقِ حقیقی کا ایک سمندر ہے

verse

تیرے نام کی تسبیح ہے میری سانسوں میںتیری یاد کی خوشبو ہے میری یادوں میںمیں خاک تھا، تو نے بنایا مجھے انسانتیرا ہی عکس چھپا ہے میری آنکھوں میں

chorus

ہو، رنگِ الٰہی چھایا ہےدل نے تجھ کو ہی پایا ہےمٹ گئی خودی، مٹ گئی دوریصرف تو، صرف تو، تو ہی تو ہے

verse

کبھی نہ بجھنے والی یہ پیاس کیسی ہےتیرے ملن کی یہ تڑپ خاص کیسی ہےمیں تو گم ہو گیا تیری گلیوں میں جا کریہ روح کی بے چینی، یہ احساس کیسی ہے

improvisation

یا رب، تیرا کرم ہے یہیا رب، تیرا ہی دم ہے یہمیں نہیں، میں نہیں، میں نہیںسب تیرا ہی تو کرم ہے یہ

crescendo

سجدوں میں لرزتی ہے میری روح کی صداہر ذرے میں پوشیدہ ہے تیرا ہی خدابے خودی میں ڈوب کر یہ پکارتا ہے دلتو ہی میرا مقصد، تو ہی میرا مدعا

chorus

ہو، رنگِ الٰہی چھایا ہےدل نے تجھ کو ہی پایا ہےمٹ گئی خودی، مٹ گئی دوریصرف تو، صرف تو، تو ہی تو ہے

outro

خاموشی میں بھی تیرا ہی چرچا ہےہر پل تیرا ہی تو جلوہ ہےمیں مٹ گیا، میں مٹ گیابس تیرا ہی تو جلوہ ہےصرف تو، صرف تو، تو ہی تو ہے

رنگِ الٰہی

فیضانِ قوالی گروپ

Preview

رنگِ الٰہی by فیضانِ قوالی گروپ | EchoLoRA: Generate a Song with AI