سڑکوں کا فلسفہ
زرقانِ حیات
پاکستانی ہپ ہاپ
About
ایک طاقتور اور جذباتی ٹریک جس میں جدید ٹریپ بیٹس کے ساتھ روایتی ستار اور طبلے کا امتزاج ہے۔ یہ گانا شہری زندگی کی جدوجہد، سماجی حقائق اور ذاتی ہمت کی کہانی کو ایک گہرے ہپ ہاپ انداز میں بیان کرتا ہے۔
Lyrics
سڑکوں کی دھول، آنکھوں میں خوابوقت کی رفتار، سوال اور جوابکون ہے اپنا، کون ہے پرایااس شہر نے کیا کیا نہیں دکھایا
سیمنٹ کے جنگل میں، سانس لینا دشوار ہےہر دیوار پہ لکھا، ایک نیا انتظار ہےجیبیں خالی ہیں مگر، سر پہ اٹھایا بوجھ ہےمیری محنت کا ہر قطرہ، سچائی کی کھوج ہےگلیوں میں سناٹا، پھر بھی شور ہے اندرہم لڑتے رہے ہیں، اپنی تقدیر سے برابرکبھی گرتے ہیں، کبھی سنبھلتے ہیں ہماپنے ہی سایوں سے، اب بدلتے ہیں ہمیہاں سچ بولنا، جیسے آگ کا دریا پار کرنااپنے ہی وجود سے، اب خود کو پیار کرنا
یہ میری پہچان ہے، میرا لہو اور میری مٹیلڑکھڑا کر بھی اٹھ کھڑے ہوئے، اپنی ہی ہمت سےآسمان کو چھونا، اب ہمارا خواب نہیںہم خود طوفان ہیں، کسی کا کوئی جواب نہیںیہ میری پہچان ہے، میرا لہو اور میری مٹی
کتابوں میں نہیں، یہ تجربوں سے سیکھا ہےاندھیری راتوں میں، روشنی کو دیکھا ہےکون کہتا ہے کہ، ہم پیچھے رہ جائیں گے؟اپنی منزل کے نشان، خود ہی بنا جائیں گےمیرے لفظوں میں، میری بستی کی پکار ہےہر ایک سانس میں، جینے کا اختیار ہےسیاہی نہیں، یہ میرے خون کی تحریر ہےبدلنی اب ہمیں، یہ اپنی ہی تقدیر ہےدھوپ میں جل کر، ہم نے سایہ پایا ہےمشکلوں کے بیچ، راستہ خود بنایا ہے
ٹھہر جا اے وقت، ابھی میری کہانی باقی ہےابھی تو میری ہمت، پوری جوانی باقی ہےجو ہم نے بویا، وہی کاٹیں گے آجہمارے سر پہ ہے، خود اپنی ہی لاجنہ کوئی جھکا سکا، نہ کوئی روک پائے گایہ قافلہ اب، منزل کو پا جائے گا
یہ میری پہچان ہے، میرا لہو اور میری مٹیلڑکھڑا کر بھی اٹھ کھڑے ہوئے، اپنی ہی ہمت سےآسمان کو چھونا، اب ہمارا خواب نہیںہم خود طوفان ہیں، کسی کا کوئی جواب نہیںیہ میری پہچان ہے، میرا لہو اور میری مٹی
دیکھو اب دور تک، کوئی رکاوٹ نہیں ہےاپنے ہی خوابوں کی، اب کوئی ملاوٹ نہیں ہےہم نے سیکھا ہے، گر کر پھر سے سنبھلناہم نے سیکھا ہے، طوفانوں میں بھی چلنایہ شہر میرا ہے، یہ گلیاں میری ہیںآنے والی صبحیں، اب ساری میری ہیںشکست کو ہم نے، طاقت میں بدلا ہےہر ایک لمحہ، اب جیسے ایک بدلہ ہے
چلتے رہو، تھمنا نہیں ہےیہ سفر ابھی ختم نہیں ہےاپنی پہچان، اپنے ہی ہاتھ میںکامیابی، ہے اب ہمارے ساتھ میںصرف ہم، اور ہماری مٹیصرف ہم، اور ہماری مٹی
سڑکوں کا فلسفہ
زرقانِ حیات
Preview