اپنے رنگ میں رنگ لے سائیں
شمسِ صابری اور ہمنوا
قوالی
About
ایک روایتی قوالی جو ہارمونیم کے گہرے ڈرون اور طبلہ کی تھاپ پر مبنی ہے۔ اس میں صوفیانہ کلام، جذباتی کال اینڈ ریسپانس اور تالیوں کی گونج شامل ہے جو سامعین کو روحانی وجد کی کیفیت میں لے جاتی ہے۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے کیا پردہ کروںتیرے نام کی تسبیح، ہر سانس میں پڑھا کروںمیں تو بس تیرا ہوں، تو ہی میری پہچان ہےتیرے ذکر میں کھویا، یہی میری جان ہے
میری پلکوں پہ ٹھہرا ہے، تیری یاد کا ایک قطرہمیری روح میں اترا ہے، تیری ذات کا ایک نظارہمیں بھٹکتا رہا دنیا کی ان گلیوں میں اے دوستتیرے جلوے نے بخشا مجھے، سکون کا ایک سہارا
مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ لے سائیںمیری انا کو مٹا کر، خود کو مجھ میں بسائےمیں تو مٹی ہوں، تو ہی میرا کمال ہےتجھ پہ قربان یہ میری، ہر ایک چال ہے
تیرا ہی نام، تیرا ہی ناممیرے لبوں پر، تیرا ہی نامتیرے ہی در پر، میرا قیامتیرے ہی در پر، میرا قیام
یہ دنیا تو فانی ہے، سب خواب کا ایک منظرتو ہی حقیقت ہے، تو ہی میرا مقدرمیں خالی ہاتھ آیا، تجھ سے کچھ مانگنے نہیںبس تیری دید کی پیاس ہے، اور کوئی غم نہیں
او سائیں! میری روح پکارے تیرا ناماو سائیں! تیرے در پہ ہو میرا مقاممیں مٹ جاؤں، میں مٹ جاؤںتیرے عشق میں ہی، میں سمٹ جاؤںتیرا ہی جلوہ، تیرا ہی جلوہہر سو پھیلا ہے تیرا ہی جلوہ!
مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ لے سائیںمیری انا کو مٹا کر، خود کو مجھ میں بسائےمیں تو مٹی ہوں، تو ہی میرا کمال ہےتجھ پہ قربان یہ میری، ہر ایک چال ہے
بس تو ہی، صرف تو ہیمیرے اندر، میرے باہرتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےخاموشی میں، شور میںبس تو ہی، تو ہی...
اپنے رنگ میں رنگ لے سائیں
شمسِ صابری اور ہمنوا
Preview