Skip to content
Duration4:21

خوابوں کا سلگنا

شہزادِ نغمہ

غزل

About

یہ غزل ایک انتہائی جذباتی اور vocal-centered-mix پر مبنی تخلیق ہے، جس میں harmonium-melody-line کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ روایتی tabla-rhythm-pattern کا استعمال کیا گیا ہے جو گہرائی اور سوز کو بڑھاتا ہے، جس سے سامعین کو ایک پرسکون اور روحانی تجربہ ملتا ہے۔

Lyrics

intro
verse

تیرے آنے کی آہٹ سے یہ دل دھڑکتا ہےخواب آنکھوں میں آ کر پھر سے سلگتا ہےیہ کیسی آگ ہے جو بجھنے کا نام نہیں لیتیمیرا ہر ایک لمحہ تیری یاد میں جلتا ہے

refrain

کبھی تو مل، کبھی تو آ، کہ تیری دید ہو جائےمری ویران دنیا میں کوئی امید ہو جائےتیرے ہونے سے ہی روشن ہیں سبھی رستے مرےاگر تو ساتھ ہو تو زندگی عید ہو جائے

verse

میں نے سوچا تھا کہ بھول جاؤں گا تجھےپر ہر ایک خیال میں تو ہی دکھائی دیتا ہےکتابِ زیست کے ہر صفحے پر تیرا ہی نام ہےیہ دلِ ناداں تجھے پانے کی ضد میں رہتا ہے

verse

کہیں دور دیس سے آتی ہے تیری خوشبویہ ہوا کا جھونکا مجھے تیرا پتہ دیتا ہےمیں ڈھونڈتا ہوں تجھے ہر ایک چہرے میںمگر عکسِ یار تنہائی میں ہی ملتا ہے

refrain

کبھی تو مل، کبھی تو آ، کہ تیری دید ہو جائےمری ویران دنیا میں کوئی امید ہو جائےتیرے ہونے سے ہی روشن ہیں سبھی رستے مرےاگر تو ساتھ ہو تو زندگی عید ہو جائے

instrumental-break
verse

محبت میں وفا کا صلہ کیا پائیں گے ہمبس آنسوؤں کی مالا گلے میں ڈالتے ہیں ہمکوئی پوچھے تو کیا کہیں گے حالِ دل اپناخاموشی سے سب کچھ سمیٹے پھرتے ہیں ہم

verse

یہ راتیں یہ تارے گواہی دیتے ہیں میریمیں نے تجھے پانے کے لیے کیا کیا نہ کیااب تو آ جا کہ سانسیں بوجھ بن گئی ہیںمیری ہستی کا ہر ذرہ تجھے پکارتا ہے

refrain

کبھی تو مل، کبھی تو آ، کہ تیری دید ہو جائےمری ویران دنیا میں کوئی امید ہو جائےتیرے ہونے سے ہی روشن ہیں سبھی رستے مرےاگر تو ساتھ ہو تو زندگی عید ہو جائے

outro

تیرے بن یہ جہاں کچھ بھی نہیںبس اک ادھورا خواب ہے میراآ جا کہ اب انتظار کی حد ہو گئی ہےبس تو ہی تو ہے، اور کوئی نہیں میرا

خوابوں کا سلگنا

شہزادِ نغمہ

Preview

خوابوں کا سلگنا by شہزادِ نغمہ | EchoLoRA: Generate a Song with AI