خوابوں کا سلگنا
شہزادِ نغمہ
غزل
About
یہ غزل ایک انتہائی جذباتی اور vocal-centered-mix پر مبنی تخلیق ہے، جس میں harmonium-melody-line کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ روایتی tabla-rhythm-pattern کا استعمال کیا گیا ہے جو گہرائی اور سوز کو بڑھاتا ہے، جس سے سامعین کو ایک پرسکون اور روحانی تجربہ ملتا ہے۔
Lyrics
تیرے آنے کی آہٹ سے یہ دل دھڑکتا ہےخواب آنکھوں میں آ کر پھر سے سلگتا ہےیہ کیسی آگ ہے جو بجھنے کا نام نہیں لیتیمیرا ہر ایک لمحہ تیری یاد میں جلتا ہے
کبھی تو مل، کبھی تو آ، کہ تیری دید ہو جائےمری ویران دنیا میں کوئی امید ہو جائےتیرے ہونے سے ہی روشن ہیں سبھی رستے مرےاگر تو ساتھ ہو تو زندگی عید ہو جائے
میں نے سوچا تھا کہ بھول جاؤں گا تجھےپر ہر ایک خیال میں تو ہی دکھائی دیتا ہےکتابِ زیست کے ہر صفحے پر تیرا ہی نام ہےیہ دلِ ناداں تجھے پانے کی ضد میں رہتا ہے
کہیں دور دیس سے آتی ہے تیری خوشبویہ ہوا کا جھونکا مجھے تیرا پتہ دیتا ہےمیں ڈھونڈتا ہوں تجھے ہر ایک چہرے میںمگر عکسِ یار تنہائی میں ہی ملتا ہے
کبھی تو مل، کبھی تو آ، کہ تیری دید ہو جائےمری ویران دنیا میں کوئی امید ہو جائےتیرے ہونے سے ہی روشن ہیں سبھی رستے مرےاگر تو ساتھ ہو تو زندگی عید ہو جائے
محبت میں وفا کا صلہ کیا پائیں گے ہمبس آنسوؤں کی مالا گلے میں ڈالتے ہیں ہمکوئی پوچھے تو کیا کہیں گے حالِ دل اپناخاموشی سے سب کچھ سمیٹے پھرتے ہیں ہم
یہ راتیں یہ تارے گواہی دیتے ہیں میریمیں نے تجھے پانے کے لیے کیا کیا نہ کیااب تو آ جا کہ سانسیں بوجھ بن گئی ہیںمیری ہستی کا ہر ذرہ تجھے پکارتا ہے
کبھی تو مل، کبھی تو آ، کہ تیری دید ہو جائےمری ویران دنیا میں کوئی امید ہو جائےتیرے ہونے سے ہی روشن ہیں سبھی رستے مرےاگر تو ساتھ ہو تو زندگی عید ہو جائے
تیرے بن یہ جہاں کچھ بھی نہیںبس اک ادھورا خواب ہے میراآ جا کہ اب انتظار کی حد ہو گئی ہےبس تو ہی تو ہے، اور کوئی نہیں میرا
خوابوں کا سلگنا
شہزادِ نغمہ
Preview