کیفیتِ حضور
رندِ ازل
صوفیانہ موسیقی
About
یہ کلام ایک گہرا صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کے ڈرون اور طبلہ کے پیچیدہ تالوں کا حسین امتزاج ہے۔ اس میں پرجوش صوفیانہ آواز (ecstatic-vocal-delivery) کے ذریعے خالقِ حقیقی سے وصال کی تڑپ کو بیان کیا گیا ہے۔
Lyrics
میری روح کی پیاس، میرا تن منتیرے ہی نام کا ذکر، تیرا ہی ہے سجنخاموشیوں میں تیری آہٹ سنتا ہوںمیں خود کو تجھ میں ہی بنتا دیکھتا ہوں
در بدر ڈھونڈا تجھے، اے میرے دلدارہر ذرے میں جلوہ تیرا، ہر سو تیرا پیارمیں تو مٹی کا پتلا، تو نورِ ازلتیرے عشق میں جلنا، اب میرا ہے عملنہ کوئی اپنا، نہ کوئی پرایا رہابس تیرے ذکر نے مجھے، مجھ سے چھڑایا رہا
ہائے رے عشق، ہائے رے مستیتیرے در کا سوالی، ہو گیا ہے بستی بستیاللہ ہو، اللہ ہو، تو ہی تو ہےمیری ہر سانس میں، بس تو ہی تو ہے
مے نوشی نہیں، یہ تو ہے کیفیتِ حضورمیں تو ہوں تیری راہ کا، ایک ذرہ بے نورآ جا کہ تیری دید کو، آنکھیں ترس گئیںتیرے وصال کی دعائیں، دل میں برس گئیںتو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخرتیرے سوا کچھ نہیں، اے میرے قادر
خود کو مٹایا تو، تجھ کو پایا میں نےاپنے وجود کے، سارے بندھن گرائے میں نےنہ مسجد کی قید، نہ مندر کا بھرمتیری محبت ہی، میرا ہے سارا کرممیں تو ہوا کا جھونکا، تو ہے سمندرِ ذاتتجھ میں ہی ڈوب کر، ملے مجھے نجات
مستی میں ڈوبا، میں ہوش کھو چکاتیرے جلووں کا، میں دیوانہ ہو چکانہیں کوئی دوری، نہیں کوئی حجابتیرے ہی عشق کا، اب ہے یہ شباباللہ ہو، اللہ ہو، تو ہی ہے میرا ٹھکانہتجھ میں ہی مرنا، تجھ میں ہی جینا ہے جانا
خاموش ہے لب، پر دل پکارتا ہےتجھ پہ ہی تو، یہ جان وارتا ہےبس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیرا سب کچھ، بس تو ہی تو ہےتو ہی تو ہے...تو ہی تو ہے...
کیفیتِ حضور
رندِ ازل
Preview