قطرہ اور دریا
روحانِ قلندر
صوفیانہ کلام
About
یہ کلام ایک گہرا صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کا ڈرون، طبلہ کے پیچیدہ تال، اور جذباتی ووکال ڈیلیوری شامل ہے۔ اس کی پروڈکشن میں قدرتی صوتی گونج کو برقرار رکھا گیا ہے تاکہ روحانی کیفیت اور وجدانی ماحول کو محسوس کیا جا سکے۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں میں، کرم کی ایک نظر کر دےمیری اس خاکِ تنہائی کو، تو گلشن سا نکھر کر دے
کہاں ڈھونڈوں تجھے اب میں، کہ تو رگ رگ میں بستا ہےمیرا ہر سانس تیرا نام، تیری یادوں سے ہنستا ہےمیں اک قطرہ ہوں دریا کا، مجھے دریا میں ملنے دےمیرے اندر کی خلش کو، محبت سے تو سلنے دے
تو ہی اول، تو ہی آخر، تیری الفت کا دریا ہےمیں بھٹکا ایک مسافر ہوں، تیرا ہی گھر ٹھکانہ ہےمٹا دے خودی کو مجھ سے، مجھے تجھ میں ہی رہنے دےمیری روح کی پیاس کو اب، تیرے عشق سے بہنے دے
ہو، ہائے رے، عشق تیرا، مستی میں ڈوب جانے دےہو، ہائے رے، ذات میری، تیری یاد میں کھو جانے دےمستی، بے خودی، تیرا نور ہی نور، بس تو ہی تو
نقابِ ہستی کو اٹھا، میں دیکھوں جلوہِ جاناںتیری دہلیز پر آ کر، مٹا ہے میرا ہر ارماںنہ دنیا کی مجھے پروا، نہ محشر کا کوئی ڈر ہےتیرے قدموں میں گرنے کا، عجب سا ایک اثر ہے
تو ہی اول، تو ہی آخر، تیری الفت کا دریا ہےمیں بھٹکا ایک مسافر ہوں، تیرا ہی گھر ٹھکانہ ہےمٹا دے خودی کو مجھ سے، مجھے تجھ میں ہی رہنے دےمیری روح کی پیاس کو اب، تیرے عشق سے بہنے دے
میں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی ہے ہر سوتیرے در پر جھکے سر، تو ہی ہے میرا ہر گوجل اٹھا ہے دل میرا، تیرے نور کی تابانی سےنکل آیا ہوں میں باہر، اپنی اس ویرانی سے
تیرا ہوں، تیرا رہوں گا، اب یہی ہے میرا ایمانتجھ میں ہی فنا ہو کر، پاؤں میں اب تو سکونِ جانبس تو ہی، بس تو ہی، میرا ساجن، میرا خدامیں مٹ گیا، میں مٹ گیا، تیری الفت میں اب جا۔
قطرہ اور دریا
روحانِ قلندر
Preview