تیرے در کی گدائی
شمسِ عارفین
صوفیانہ قوالی
About
یہ کلام ہارمونیم کے گہرے ڈرون اور طبلہ کے پیچیدہ تالوں کے امتزاج سے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں پرجوش صوفیانہ انداز اور وجدانی کیفیت کو نمایاں کیا گیا ہے جو روح کو سکون اور پرواز بخشتی ہے۔
Lyrics
میں کون ہوں، کیا ہوں، کہاں ہوں، کچھ خبر نہیںیہ میری ذات، یہ میرا وجود، سب بے اثر نہیںمٹ رہا ہوں، مٹ رہا ہوں، اس کے جلووں میںخودی کا بوجھ اب مجھ کو، ذرا بھی تو خبر نہیں
تیرے در کی گدائی، میری پہچان بن گئیمیری ہر ایک سانس، تیری ہی اذان بن گئیمیں بھٹکتا تھا اندھیروں میں، خود کو ڈھونڈنےاب تیرے عشق کی شمع، میری جان بن گئی
ہو... ہائے... مولیٰ...تیرے ذکر میں، تیرے فکر میںمیں کھو گیا، میں ہو گیا، تیرا ہی تو
مجھ میں تو ہے، تجھ میں میں ہوں، یہ کیسا ہے ناطہتیری یادوں سے جڑا ہے، میرا ہر اک راستہمیں فنا ہو جاؤں تجھ میں، یہی میری آرزوتو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی ہے میرا واسطہ
دنیا کی محفلیں، سب سرابِ خواب ہیںتیری چوکھٹ کے سوا، سبھی عذابِ خواب ہیںمیں نے توڑا ہے ہر رشتہ، خود سے خود کا ہیتیرے قدموں کے نشان، میری کتابِ خواب ہیں
یا رب، یا رب، تیری پناہمیں تو خاک ہوں، تیرے عشق کی راہہو... اے میرے مولیٰ...
مجھ میں تو ہے، تجھ میں میں ہوں، یہ کیسا ہے ناطہتیری یادوں سے جڑا ہے، میرا ہر اک راستہمیں فنا ہو جاؤں تجھ میں، یہی میری آرزوتو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی ہے میرا واسطہ
رقصِ روح ہے، یہ تجلی کا نظارہ ہےمیں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی ہمارا ہےقطرہ سمندر میں، جا کر جو مل گیااب نہ کوئی کنارہ ہے، نہ کوئی سہارا ہےسب کچھ مٹا، سب کچھ مٹا، میں خود کو بھول گیاتیرے نور میں، تیرے نور میں، میں بھی ڈھل گیا
خاموش ہوں اب، کہ الفاظ بھی کم ہیںتیری قربت میں، سب غم ہی غم ہیںبس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیں نہیں، میں نہیں، میں نہیں...سب تیرا ہے، سب تیرا ہے، سب تیرا ہی ہے...
تیرے در کی گدائی
شمسِ عارفین
Preview