Skip to content
حقیقتِ جستجو
Duration4:55

حقیقتِ جستجو

آفاقِ قوالی

Coke Studio Fusion

About

یہ ٹریک روایتی قوالی کے عناصر اور جدید الیکٹرانک پروڈکشن کا ایک حسین امتزاج ہے۔ اس میں رباب کی سریلی دھنوں کو تبلے کی تھاپ اور گہرے سنتھ پیڈز کے ساتھ جوڑا گیا ہے، جو ایک پروقار اور روحانی سماں پیدا کرتا ہے۔

Lyrics

intro

تیرے نام کی خوشبو سے مہک اٹھا ہے یہ جہاںخالی آنکھوں میں خوابوں کا کارواںتلاش ہے، جستجو ہے، ایک انجان راستہ ہےروح کے صحرا میں اب بھی تیرا ہی واسطہ ہے

verse 1

کبھی جو سوچوں تو لگتا ہے تو میرے پاس ہےتیری سانسوں کی لہروں میں میری سانس کا احساس ہےبکھرتی شاموں میں ڈھونڈوں تیرا ہی چہرہکتنا ادھورا ہے یہ دل، کتنا گہرا یہ پہرہتیرے فراق میں جلتے ہیں یہ سارے چراغتیرے وصال کی امید میں کٹے ہیں سب داغ

verse 2

یہ مٹی، یہ ہوا، یہ بدلتے ہوئے موسمسب تجھ سے ہی سیکھے ہیں، میری آنکھوں کے یہ غمکبھی جو مل جاؤ تو کہہ دوں یہ ساری باتیںتیرے بغیر کتنی طویل ہیں یہ کالی راتیںمیں تو بس ایک ذرہ ہوں، تو ہے کائنات میریتجھ میں ہی سمٹ جائے گی یہ ذات میری

pre-chorus

دل کی دھڑکنوں میں ہے تیری ہی پکاراس بے نیاز دنیا سے مجھے کیا ہے سروکاربس تیرا ہی ذکر ہے، تیری ہی طلب ہےمیری ہر دعا میں بس تیرا ہی غضب ہے

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میرا جہاں ہےتیرے عشق میں فنا ہونا ہی میری پہچان ہےاے میرے مالک، اے میرے دل کے مکینتیرے در کے سوا اور کہاں ہے میرا یقینتو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میرا جہاں ہے

verse 3

کبھی جو ٹوٹ کر بکھروں تو سنبھال لینا مجھےاپنی رحمت کے ساۓ میں اب پال لینا مجھےیہ زندگی تو بس ایک پل کا تماشا ہےتیری رضا ہی تو میرا اصل اثاثہ ہےمیں بھٹکتا رہا، تو نے راستہ دکھایاتیرے نام کے صدقے ہی تو سکون پایا

bridge

کبھی چپکے سے آنا خواب کے دریچے سےکبھی ڈھونڈنا مجھے محبت کے کسی قصے سےمیں تو بس ایک مسافر ہوں، تو ہے منزل میریتیرے قدموں میں ہی رک جائے گی یہ ہستی میریکوئی نہیں ہے میرا، سوائے تیرے، اے میرے ہمدمتیرے بغیر تو جینا بھی ہے ایک گہرا ماتم

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میرا جہاں ہےتیرے عشق میں فنا ہونا ہی میری پہچان ہےاے میرے مالک، اے میرے دل کے مکینتیرے در کے سوا اور کہاں ہے میرا یقینتو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میرا جہاں ہے

instrumental-solo
bridge

یہ روح پیاسی ہے، یہ دل بے چین ہےتیری ایک نظر کا منتظر یہ سارا دین ہےنہ کوئی گلہ ہے، نہ کوئی شکایت باقی ہےتیرے نام کی ہی اب تو عبادت باقی ہے

outro

بس تو ہی، بس تو ہیمیری آنکھوں میں تیرا نورمیری سانسوں میں تیرا وجودتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےتیرے سوا کچھ نہیںتیرے سوا کچھ نہیں...

حقیقتِ جستجو

آفاقِ قوالی

Preview

حقیقتِ جستجو by آفاقِ قوالی | EchoLoRA: Generate a Song with AI