سرسوں کی مہک
آفتابِ ہنر
پاکستانی لوک موسیقی
About
یہ گیت روایتی پاکستانی لوک موسیقی کا ایک شاہکار ہے جس میں ڈھول اور طبلے کی مدد سے آرگینک پرکشن لیئرنگ کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس میں مائکروٹونل ووکل انفیکشن اور روباب کی خوبصورت دھنوں کے ساتھ ایک جذباتی اور پرجوش ماحول تخلیق کیا گیا ہے۔
Lyrics
مٹی کی خوشبو سے ہے میرا رشتہ پرانادیس کے کھیتوں میں اب گیت ہے گنگناناہوا کے جھونکے لائے ہیں پیغامِ محبتچل اے دل اب پھر سے وہی قصہ دہرانا
پیلے سرسوں کے پھولوں نے چادر اوڑھی ہےدھرتی نے سونا اگل کر قسمت جوڑی ہےہاتھوں میں ہاتھ لیے چلتے ہیں ہم یارخوشی کی لہروں نے ہر غم کی جڑ توڑی ہےدور کہیں کوئل کی کوک سنائی دیتی ہےہر شاخ پہ جیسے کوئی دعا دکھائی دیتی ہے
او میرے رانجھا، او میرے سجنادیس کی مٹی میں ہی ہے بسنامحبت کا یہ رنگ ہے ایساپھولوں کی خوشبو جیسااو میرے سجنا، او میرے رانجھا
بزرگوں کی باتیں، وہ پرانی یادیںماتھے کی شکن میں چھپی ہیں سب فریادیںموسم بدلے، رت بدلی، پر دل نہ بدلاآج بھی زندہ ہیں وہ پرانے سب ارادےگلیوں میں اب پھر سے رونق لانی ہےاپنوں کے سنگ ہی تو زندگی بتانی ہے
جھوم کے گاؤ، سب کو سناؤپیار کا یہ پیغام ہر دل میں جگاؤمٹی کی مہک، اپنوں کی چاہتیہی تو ہے اصل میں زندگی کی راحتآؤ سب مل کر یہ نغمہ گائیںخوشیوں کے دیپ ہر گھر میں جلائیں
دیس میرا، پیار میراخوشیوں کا سنسار میراسدا رہے یہ گیت میراسدا رہے یہ مان میراسدا رہے یہ دیس میرا
سرسوں کی مہک
آفتابِ ہنر
Preview