جستجوئے وصال
گدائےِ وصال
قوالی فیوژن
About
یہ قوالی فیوژن ٹریک روایتی ہارمونیم اور طبلے کی تھاپ کو جدید الیکٹرانک بیٹس اور گٹار کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں صوفیانہ شاعری کے ساتھ ساتھ جذباتی اتار چڑھاؤ اور پرجوش تالیوں کا استعمال کیا گیا ہے جو ایک روحانی اور توانائی سے بھرپور ماحول پیدا کرتا ہے۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں میں، کرم کی ایک نظر کر دےمٹایا خود کو میں نے اب، تو اپنی ہی خبر کر دےمیری ہستی کے پردے کو، ذرا سا تو ہٹا دے ابجو چھپایا ہے سینے میں، وہ کھل کے تو دکھا دے اب
کہیں ڈھونڈوں تجھے میں تو، کہیں پاتا نہیں خود کوتیرے ہی نام کی لو میں، جلایا ہے میں نے خود کومیں ذرہ ہوں، تو ہے سورج، مری حالت پہ تو آ جامری ویران آنکھوں میں، محبت کا دیا لا جاہواؤں میں تیری خوشبو، زمینوں میں تیرا چرچامیں ہوں پتھر، تو ہے جوہر، مری قسمت کو تو چمکا
تو ہی اول، تو ہی آخر، تیری ہی جستجو ہے بسبکھر کے رہ گیا ہوں میں، تو ہی تو آبرو ہے بسمٹا دے فاصلے سارے، تجھے پانے کی حسرت ہےیہ دل ہے تیرا ہی گھر اب، تجھے پانے کی لذت ہے
ہائے رے، ہائے رے، عشق کی یہ آگہائے رے، ہائے رے، دل کے یہ داغدے دے، دے دے، اپنا ہی رنگآ جا، آ جا، میرے ہی سنگ
نہ کوئی ذات ہے باقی، نہ کوئی نام ہے میرابس اک تیری ہی صورت ہے، جو ہر اک سمت ہے پھیلامیں تنہا تھا، مگر اب تو، مرے اندر ہی بستا ہےترا ہر ایک اشارہ ہی، مرے زخموں کو ہنستا ہےزمانے کی یہ زنجیریں، توڑی ہیں تیرے پیار میںمیں گم ہو کر ملا ہوں اب، تیرے ہی انتظار میں
تو ہی اول، تو ہی آخر، تیری ہی جستجو ہے بسبکھر کے رہ گیا ہوں میں، تو ہی تو آبرو ہے بسمٹا دے فاصلے سارے، تجھے پانے کی حسرت ہےیہ دل ہے تیرا ہی گھر اب، تجھے پانے کی لذت ہے
آ جا، تجھ میں کھو جاؤںآ جا، میں خود نہ رہ پاؤںبس تیری ہی یاد آئےبس تیری ہی بات آئے
خاموشی میں بھی تو ہے، شور میں بھی تو ہے موجودمیں سجدے میں گرا ہوں اب، تو ہی تو ہے مقصودنہ کوئی میں، نہ کوئی تو، بس اک تیرا ہی سایہ ہےیہیں پر ختم منزل ہے، یہیں پر دل نے پایا ہےبس تو ہی تو، بس تو ہی تو، بس تو ہی تو۔۔۔
جستجوئے وصال
گدائےِ وصال
Preview