Skip to content
Duration4:03

ذاتِ بے نشان

شمعِ عشق

صوفی

About

یہ کلام ایک گہرا صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیئم کا مسلسل ڈرون اور طبلہ کے پیچیدہ تال کا امتزاج روح کو سرشار کرتا ہے۔ اس میں جذباتی اور پرجوش آواز کے ساتھ حق کی تلاش کی کہانی بیان کی گئی ہے جو سامعین کو ایک روحانی کیفیت میں لے جاتی ہے۔

Lyrics

intro

تیرے نام کی لو جلی ہے اندرخالی ہے دل، بھرا ہے تو ہی اندر

verse

میں تو اک بوند ہوں، تو سمندر ہے میرابھٹکتی روح کو مل گیا ہے بسیراتیری راہوں میں بچھائے ہیں دیدہ و دلکب سے تڑپتا ہے یہ بے چین سائل

vocal-improvisation

ہائے رے، ہائے رے، عشق تیراہائے رے، ہائے رے، رنگ تیرااللہ ہو، اللہ ہو، تو ہی توحق ہو، حق ہو، تو ہی تو

chorus

مجھ میں تو ہے، تجھ میں میں ہوںقطرہ قطرہ، بن کے میں بہوںتیری طلب میں خود کو مٹایااپنے ہی اندر تجھ کو پایا

verse

دنیا کی محفلیں سب سراب لگتی ہیںتیری یادیں ہی اب تو خواب لگتی ہیںکیسی یہ مستی، کیسا یہ نشہ ہےتیری محبت کا یہ کیسا درِ صفا ہے

vocal-improvisation

یا رب، یا رب، تیری پناہیا رب، یا رب، تو ہی راہسب کچھ تیرا، کچھ بھی نہیں میراتو ہی تو ہے، بس تو ہی تیرا

climax

میں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی توذات میری، صفات تیری، بس تو ہی تومٹ گئی دوری، مٹ گیا فاصلہتو ہی تو ہے میرا حاصل، میرا حوصلہ

chorus

مجھ میں تو ہے، تجھ میں میں ہوںقطرہ قطرہ، بن کے میں بہوںتیری طلب میں خود کو مٹایااپنے ہی اندر تجھ کو پایا

outro

خاموشی میں تیری پکار سنتا ہوںہر سانس میں تیرا دیدار کرتا ہوںتو ہی تو، بس تو ہی توتو ہی تو، بس تو ہی تو

ذاتِ بے نشان

شمعِ عشق

Preview

ذاتِ بے نشان by شمعِ عشق | EchoLoRA: Generate a Song with AI