سفرِ ذات
صدائے ذات
حمد
About
ایک پرسکون اور روحانی حمد جو روایتی ہارمونیم کی گہرائی اور طبلہ کی تال پر مبنی ہے۔ اس گیت میں آواز کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے جو اللہ کی وحدانیت اور قدرت کو بیان کرتی ہے۔
Lyrics
تیرے نام سے شروع ہو ہر ایک سانس کا سفرتیری ذات ہی ہے اول، تیری ذات ہی ہے آخرذرا دیکھ تو سہی، یہ کائنات کا منظرتیرے ہی نور سے روشن ہے ہر ایک گھر
زمیں کی وسعتوں میں تیری قدرت کا نشاں ہےآسمان کی بلندی پر تیرا ہی گماں ہےپھولوں کی مہک میں تیرا ہی رنگ چھپا ہےہر ذرے میں تیرا ہی نام بسا ہوا ہےمیں تو ایک قطرہ ہوں، تو سمندر کی روانی ہےمیری ہر ایک بات، تیری ہی کہانی ہے
اے مالکِ کل، اے خالقِ ارض و سماںتجھ سا نہ کوئی ہے، نہ ہوگا کوئی جہاںمیری جھولی میں بس تیری ہی طلب ہےتیرے ذکر سے ہی تو میرا دل شادماں ہے
رات کے سناٹے میں جب دنیا سو جاتی ہےتیری یاد دل میں اک نئی آگ لگاتی ہےمیں گرتا ہوں تو تو ہی مجھے تھام لیتا ہےمیری ہر خطاکو اپنی رحمت میں چھپا لیتا ہےیہ کیسی عنایت ہے، یہ کیسا کرم ہےتیرے سوا اب نہ کوئی غم ہے
سورج کی کرنیں تیری روشنی کی گواہی ہیںدریا کی موجیں تیری بخشی ہوئی راہی ہیںپرندوں کی چہک میں تیری حمد کے ترانے ہیںتیرے ہی حکم سے چلتے یہ سارے زمانے ہیںمیں عاجز بندہ، بس تیری پناہ مانگتا ہوںتیرے حضور میں اپنی انا کو مٹاتا ہوں
اے مالکِ کل، اے خالقِ ارض و سماںتجھ سا نہ کوئی ہے، نہ ہوگا کوئی جہاںمیری جھولی میں بس تیری ہی طلب ہےتیرے ذکر سے ہی تو میرا دل شادماں ہے
کبھی سوچتا ہوں تو تیری وسعتیں حیران کرتی ہیںکبھی روتا ہوں تو تیری رحمتیں سامان کرتی ہیںتو نے نوازا ہے مجھے، میں اس قابل کہاں تھاتیرے عشق کا یہ دیا، میرے دل میں رواں تھاہر سانس میں تیرا احساس، ہر دھڑکن میں تو ہےمیری روح کی پیاس، بس تجھ سے ہی تو ہے
اے مالکِ کل، اے خالقِ ارض و سماںتجھ سا نہ کوئی ہے، نہ ہوگا کوئی جہاںمیری جھولی میں بس تیری ہی طلب ہےتیرے ذکر سے ہی تو میرا دل شادماں ہے
تیری حمد میں کٹ جائے یہ زندگی میریبس یہی دعا ہے، یہی بندگی میریتو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی ظاہرتیری ذات ہی ہے اب میرا مقدربس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیری روح میں تیرا ہی نور ہےبس تو ہی تو ہے...
سفرِ ذات
صدائے ذات
Preview