Skip to content
Duration4:58

سمندرِ کرم

ضیاءِ قادری

Hamd

About

ایک پرسکون اور روحانی حمد جو روایتی ہارمونیم کی دھن اور طبلہ کی تال پر مبنی ہے۔ اس گیت میں آواز کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جس میں صوفیانہ انداز کی عکاسی کی گئی ہے۔

Lyrics

intro

تیرے نام سے شروع ہو ہر ایک سانس کا سفرتیری ذات ہے ازل سے، تو ہی ہے مہر و قمر

verse

ذرے ذرے میں تیری ہی شان جھلکتی ہےکائنات کی ہر ایک شے تجھ ہی کو پکارتی ہےمیں تو اک ادنیٰ سا قطرہ، تو ہے سمندرِ کرممیری ہر الجھن کا حل، تیری ہی رحمت کا بھرم

refrain

تو ہے مالک، تو ہے خالق، تیری ہی کبریائی ہےتیری چوکھٹ پہ ہی آ کر، دل کو روشنی آئی ہےسجدہ ریز ہوں تیرے در پر، تجھ سے ہی امید ہےتیری بخشش کے سہارے، میری صبحِ نو عید ہے

verse

وہ جو بن کہے جان لے، وہ جو رگِ جاں سے ہے قریباس کی رحمت کے سائے میں، ملتا ہے ہر اک کو نصیبمیری لغزشوں کو چھپا لے، تو ہے غفور و رحیمتیرے عشق کی تپش میں ہی، پگھلتا ہے یہ دلِ سلیم

refrain

تو ہے مالک، تو ہے خالق، تیری ہی کبریائی ہےتیری چوکھٹ پہ ہی آ کر، دل کو روشنی آئی ہےسجدہ ریز ہوں تیرے در پر، تجھ سے ہی امید ہےتیری بخشش کے سہارے، میری صبحِ نو عید ہے

verse

تیرے ہی ہاتھ میں ہے، تقدیروں کے سبھی دھاگےتو ہی راستہ دکھائے، جب کوئی بھٹک کر بھاگےمیری تنہائیوں میں بھی، تیرا ہی ذکرِ جمیل ہےتیرے قرب کی جستجو میں، میرا ہر پل دلیل ہے

refrain

تو ہے مالک، تو ہے خالق، تیری ہی کبریائی ہےتیری چوکھٹ پہ ہی آ کر، دل کو روشنی آئی ہےسجدہ ریز ہوں تیرے در پر، تجھ سے ہی امید ہےتیری بخشش کے سہارے، میری صبحِ نو عید ہے

outro

تیری حمد میں کھو جائیں، میری روح کا یہی ارادہتجھ سے ہی شروع ہے سب، تجھ پر ہی ختم ہو وعدہبس تیری رضا ہو، بس تیری رضا ہومیری ہر دعا میں، بس تیری ہی ثنا ہو

سمندرِ کرم

ضیاءِ قادری

Preview

سمندرِ کرم by ضیاءِ قادری | EchoLoRA: Generate a Song with AI