سمندرِ کرم
ضیاءِ قادری
Hamd
About
ایک پرسکون اور روحانی حمد جو روایتی ہارمونیم کی دھن اور طبلہ کی تال پر مبنی ہے۔ اس گیت میں آواز کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جس میں صوفیانہ انداز کی عکاسی کی گئی ہے۔
Lyrics
تیرے نام سے شروع ہو ہر ایک سانس کا سفرتیری ذات ہے ازل سے، تو ہی ہے مہر و قمر
ذرے ذرے میں تیری ہی شان جھلکتی ہےکائنات کی ہر ایک شے تجھ ہی کو پکارتی ہےمیں تو اک ادنیٰ سا قطرہ، تو ہے سمندرِ کرممیری ہر الجھن کا حل، تیری ہی رحمت کا بھرم
تو ہے مالک، تو ہے خالق، تیری ہی کبریائی ہےتیری چوکھٹ پہ ہی آ کر، دل کو روشنی آئی ہےسجدہ ریز ہوں تیرے در پر، تجھ سے ہی امید ہےتیری بخشش کے سہارے، میری صبحِ نو عید ہے
وہ جو بن کہے جان لے، وہ جو رگِ جاں سے ہے قریباس کی رحمت کے سائے میں، ملتا ہے ہر اک کو نصیبمیری لغزشوں کو چھپا لے، تو ہے غفور و رحیمتیرے عشق کی تپش میں ہی، پگھلتا ہے یہ دلِ سلیم
تو ہے مالک، تو ہے خالق، تیری ہی کبریائی ہےتیری چوکھٹ پہ ہی آ کر، دل کو روشنی آئی ہےسجدہ ریز ہوں تیرے در پر، تجھ سے ہی امید ہےتیری بخشش کے سہارے، میری صبحِ نو عید ہے
تیرے ہی ہاتھ میں ہے، تقدیروں کے سبھی دھاگےتو ہی راستہ دکھائے، جب کوئی بھٹک کر بھاگےمیری تنہائیوں میں بھی، تیرا ہی ذکرِ جمیل ہےتیرے قرب کی جستجو میں، میرا ہر پل دلیل ہے
تو ہے مالک، تو ہے خالق، تیری ہی کبریائی ہےتیری چوکھٹ پہ ہی آ کر، دل کو روشنی آئی ہےسجدہ ریز ہوں تیرے در پر، تجھ سے ہی امید ہےتیری بخشش کے سہارے، میری صبحِ نو عید ہے
تیری حمد میں کھو جائیں، میری روح کا یہی ارادہتجھ سے ہی شروع ہے سب، تجھ پر ہی ختم ہو وعدہبس تیری رضا ہو، بس تیری رضا ہومیری ہر دعا میں، بس تیری ہی ثنا ہو
سمندرِ کرم
ضیاءِ قادری
Preview