تیری محبت کا نشہ
سالکانِ عشق
قوالی
About
یہ قوالی ایک جذباتی روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کے گہرے سر، طبلے کی پیچیدہ تال اور اجتماعی تالیوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس میں کال اینڈ ریسپانس انداز کے ساتھ صوفیانہ کلام کو پیش کیا گیا ہے جو سامعین کو ایک وجدانی کیفیت میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
مجھ کو اپنے رنگ میں رنگ لےمولا، میرے حال پہ کر دے کرمتیری طلب میں، تیری جستجو میںکھو گیا ہے میرا ہر اک قدم
میں تو بھٹکا ہوا اک مسافر رہاتیری چوکھٹ پہ آ کے سکون پا گیامیری ہستی میں اب تو ہی تو بس گیامیں تو خود سے ہی خود کو مٹا آ گیااے میرے مالک، اے میرے حبیبتیری الفت کا ہر لمحہ ہے عجیب
تیری محبت کا یہ کیسا نشہ ہےمیری روح میں بس تیرا ہی راستہ ہےمیں فنا ہو کے تجھ میں ہی جی رہا ہوںیہ کیسا عشق ہے، یہ کیسا تماشا ہےتیری محبت کا یہ کیسا نشہ ہے
حیران ہوں، پریشان ہوںمیں تو تیرے نام پہ قربان ہوںنہ کوئی منزل، نہ کوئی ٹھکانہبس تیری یاد کا ایک دیوانہ
جل اٹھی ہے یہ روح اب تیرے نور سےفاصلے مٹ گئے اب تو مجھ سے دور سےدل دھڑکتا ہے بس تیرے ہی نام سےتیرے جلووں کے اب تو ہیں ہر کام سےسب کچھ لٹا دیا، سب کچھ مٹا دیاتیرے عشق میں خود کو ہی بھلا دیا
تیری محبت کا یہ کیسا نشہ ہےمیری روح میں بس تیرا ہی راستہ ہےمیں فنا ہو کے تجھ میں ہی جی رہا ہوںیہ کیسا عشق ہے، یہ کیسا تماشا ہے
بس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیری سانسوں میں، میری آنکھوں میںبس تو ہی تو ہے...میں مٹ گیا، میں مٹ گیا...بس تو ہی تو ہے...
تیری محبت کا نشہ
سالکانِ عشق
Preview