Skip to content
Duration3:33

تیری محبت کا نشہ

سالکانِ عشق

قوالی

About

یہ قوالی ایک جذباتی روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کے گہرے سر، طبلے کی پیچیدہ تال اور اجتماعی تالیوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس میں کال اینڈ ریسپانس انداز کے ساتھ صوفیانہ کلام کو پیش کیا گیا ہے جو سامعین کو ایک وجدانی کیفیت میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro

مجھ کو اپنے رنگ میں رنگ لےمولا، میرے حال پہ کر دے کرمتیری طلب میں، تیری جستجو میںکھو گیا ہے میرا ہر اک قدم

verse

میں تو بھٹکا ہوا اک مسافر رہاتیری چوکھٹ پہ آ کے سکون پا گیامیری ہستی میں اب تو ہی تو بس گیامیں تو خود سے ہی خود کو مٹا آ گیااے میرے مالک، اے میرے حبیبتیری الفت کا ہر لمحہ ہے عجیب

chorus

تیری محبت کا یہ کیسا نشہ ہےمیری روح میں بس تیرا ہی راستہ ہےمیں فنا ہو کے تجھ میں ہی جی رہا ہوںیہ کیسا عشق ہے، یہ کیسا تماشا ہےتیری محبت کا یہ کیسا نشہ ہے

improvisation

حیران ہوں، پریشان ہوںمیں تو تیرے نام پہ قربان ہوںنہ کوئی منزل، نہ کوئی ٹھکانہبس تیری یاد کا ایک دیوانہ

crescendo

جل اٹھی ہے یہ روح اب تیرے نور سےفاصلے مٹ گئے اب تو مجھ سے دور سےدل دھڑکتا ہے بس تیرے ہی نام سےتیرے جلووں کے اب تو ہیں ہر کام سےسب کچھ لٹا دیا، سب کچھ مٹا دیاتیرے عشق میں خود کو ہی بھلا دیا

chorus

تیری محبت کا یہ کیسا نشہ ہےمیری روح میں بس تیرا ہی راستہ ہےمیں فنا ہو کے تجھ میں ہی جی رہا ہوںیہ کیسا عشق ہے، یہ کیسا تماشا ہے

outro

بس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیری سانسوں میں، میری آنکھوں میںبس تو ہی تو ہے...میں مٹ گیا، میں مٹ گیا...بس تو ہی تو ہے...

تیری محبت کا نشہ

سالکانِ عشق

Preview

تیری محبت کا نشہ by سالکانِ عشق | EchoLoRA: Generate a Song with AI