ریت کا سفر
نبضِ شہر
Pakistani Rock
About
ایک طاقتور پاکستانی راک ٹریک جو بھاری الیکٹرک گٹار کے ساتھ روایتی طبلہ کی تال کو ملا کر ایک منفرد صوتی تجربہ پیش کرتا ہے۔ اس گانے میں سماجی بے چینی اور خود شناسی کے جذبات کو مشرقی راگوں اور مغربی راک انسٹرومینٹیشن کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔
Lyrics
خاموشیوں کے شور میں، گم ہے میرا جہاںکب تک چھپائیں گے ہم، یہ جلتا ہوا دھواںوقت کی نبض پر، انگلی رکھ کر دیکھہر سانس میں پل رہا، ایک نیا طوفان
گلیوں کی دھول میں، کھوئے ہوئے ہیں خوابدیواروں پر لکھی، اپنی ہی کتابہم نے تو مانگی تھی، بس تھوڑی سی روشنیپر ہر چراغ کے پیچھے، ہے ایک نیا عذابپتھروں کے اس شہر میں، دل کا لہو بہےکون سنے گا اب، جو ہم نہ کہہ سکے
آسماں سے گرے، زمین کے ہم ہوئےاپنے ہی دیس میں، اجنبی سے ہوئےبند آنکھوں سے دیکھ، سچ کا یہ آئینہٹوٹی ہوئی لکیروں میں، اب ہم نہ کھوئے
یہ آگ ہے، یہ راکھ نہیںہم ہیں یہاں، یہ خواب نہیںبدلیں گے ہم، یہ ریت کا سفراب رکنا تو، کوئی جواب نہیںیہ آگ ہے، یہ راکھ نہیں
پرانی کتابوں کے، اوراق جل رہے ہیںسائے بھی اب تو، ہم سے نکل رہے ہیںکب تک سمیٹیں گے، ہم بکھری ہوئی اناکچھ تو بتائیں، ہم کیوں مچل رہے ہیںخوابوں کی قیمت، اب ہم چکائیں گےاندھیری رات کو، صبح بنائیں گے
آسماں سے گرے، زمین کے ہم ہوئےاپنے ہی دیس میں، اجنبی سے ہوئےبند آنکھوں سے دیکھ، سچ کا یہ آئینہٹوٹی ہوئی لکیروں میں، اب ہم نہ کھوئے
یہ آگ ہے، یہ راکھ نہیںہم ہیں یہاں، یہ خواب نہیںبدلیں گے ہم، یہ ریت کا سفراب رکنا تو، کوئی جواب نہیںیہ آگ ہے، یہ راکھ نہیں
دھڑکنوں میں گونج، ایک پرانی پکار ہےیہ لمحہ تو بس، آخری انتظار ہےتڑپتی ہوئی روح، اب بے چین ہے بہتیہ ٹوٹتی زنجیر، اب بے اختیار ہے
یہ آگ ہے، یہ راکھ نہیںہم ہیں یہاں، یہ خواب نہیںبدلیں گے ہم، یہ ریت کا سفراب رکنا تو، کوئی جواب نہیںیہ آگ ہے، یہ راکھ نہیں
جلتے ہوئے ہم، چلتے ہوئے ہمرکنا نہیں، تھکنا نہیںیہ آگ ہے...یہ آگ ہے...اب ہم نہیں رکیں گے۔
ریت کا سفر
نبضِ شہر
Preview