Skip to content
♪
Duration4:55

ریت کا سفر

نبضِ شہر

Pakistani Rock

About

ایک طاقتور پاکستانی راک ٹریک جو بھاری الیکٹرک گٹار کے ساتھ روایتی طبلہ کی تال کو ملا کر ایک منفرد صوتی تجربہ پیش کرتا ہے۔ اس گانے میں سماجی بے چینی اور خود شناسی کے جذبات کو مشرقی راگوں اور مغربی راک انسٹرومینٹیشن کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro

خاموشیوں کے شور میں، گم ہے میرا جہاںکب تک چھپائیں گے ہم، یہ جلتا ہوا دھواںوقت کی نبض پر، انگلی رکھ کر دیکھہر سانس میں پل رہا، ایک نیا طوفان

verse

گلیوں کی دھول میں، کھوئے ہوئے ہیں خوابدیواروں پر لکھی، اپنی ہی کتابہم نے تو مانگی تھی، بس تھوڑی سی روشنیپر ہر چراغ کے پیچھے، ہے ایک نیا عذابپتھروں کے اس شہر میں، دل کا لہو بہےکون سنے گا اب، جو ہم نہ کہہ سکے

pre-chorus

آسماں سے گرے، زمین کے ہم ہوئےاپنے ہی دیس میں، اجنبی سے ہوئےبند آنکھوں سے دیکھ، سچ کا یہ آئینہٹوٹی ہوئی لکیروں میں، اب ہم نہ کھوئے

chorus

یہ آگ ہے، یہ راکھ نہیںہم ہیں یہاں، یہ خواب نہیںبدلیں گے ہم، یہ ریت کا سفراب رکنا تو، کوئی جواب نہیںیہ آگ ہے، یہ راکھ نہیں

verse

پرانی کتابوں کے، اوراق جل رہے ہیںسائے بھی اب تو، ہم سے نکل رہے ہیںکب تک سمیٹیں گے، ہم بکھری ہوئی اناکچھ تو بتائیں، ہم کیوں مچل رہے ہیںخوابوں کی قیمت، اب ہم چکائیں گےاندھیری رات کو، صبح بنائیں گے

pre-chorus

آسماں سے گرے، زمین کے ہم ہوئےاپنے ہی دیس میں، اجنبی سے ہوئےبند آنکھوں سے دیکھ، سچ کا یہ آئینہٹوٹی ہوئی لکیروں میں، اب ہم نہ کھوئے

chorus

یہ آگ ہے، یہ راکھ نہیںہم ہیں یہاں، یہ خواب نہیںبدلیں گے ہم، یہ ریت کا سفراب رکنا تو، کوئی جواب نہیںیہ آگ ہے، یہ راکھ نہیں

bridge

دھڑکنوں میں گونج، ایک پرانی پکار ہےیہ لمحہ تو بس، آخری انتظار ہےتڑپتی ہوئی روح، اب بے چین ہے بہتیہ ٹوٹتی زنجیر، اب بے اختیار ہے

tabla-solo
guitar-solo
chorus

یہ آگ ہے، یہ راکھ نہیںہم ہیں یہاں، یہ خواب نہیںبدلیں گے ہم، یہ ریت کا سفراب رکنا تو، کوئی جواب نہیںیہ آگ ہے، یہ راکھ نہیں

outro

جلتے ہوئے ہم، چلتے ہوئے ہمرکنا نہیں، تھکنا نہیںیہ آگ ہے...یہ آگ ہے...اب ہم نہیں رکیں گے۔

ریت کا سفر

نبضِ شہر

Preview