ویرانی کا سفر
شہوار کمال
پاکستانی فلمی موسیقی
About
ایک جذباتی اور سنیماٹک کمپوزیشن جس میں روایتی طبلے کی تھاپ اور جدید سٹرنگ آرکسٹریشن کا حسین امتزاج ہے۔ گانے میں ہارمونیئم کی گہری دھنوں کے ساتھ ایک پر اثر مردانہ آواز شامل ہے جو تنہائی اور جدائی کے موضوع کو بیان کرتی ہے۔
Lyrics
تنہائیوں کے شہر میں، اک خواب سا بکھرا ہواپلکوں پہ ٹھہرا اشک ہے، یا درد کوئی گہرا ہواخاموشیوں کی دھن میں اب، خود کو ہی ڈھونڈتے ہیں ہمسائے بھی ہم سے روٹھ کر، رستوں سے گزرے ہوئے
اک عکس تیری یاد کا، آنکھوں میں سجا رکھا ہےہم نے تو خود کو تیری، چاہت میں مٹا رکھا ہےوہ تیری ہنستی ہوئی، آنکھیں وہ باتیں پیاریدل کے کسی کونے میں، ہم نے چھپا رکھا ہےرستہ کٹھن ہے اور ہم، تنہا کھڑے ہیں یہاںخوابوں کے اس نگر میں، سب کچھ گنوا رکھا ہے
موسم بدلتے دیکھے، رستے بدلتے دیکھےہم نے تو تیرے بن، سب کچھ ہی پل میں دیکھےاب کوئی آس نہیں، اب کوئی پیار نہیںبس اک سوال ہے جو، دل میں دبا رکھا ہے
کیسی یہ دوری ہے، کیسی یہ مجبوری ہےتیرے بن جینا بھی، اک ادھوری کہانی ہےلوٹ کے آ جاؤ، اب تو حد ہو گئی ہےتیرے بن یہ زندگی، بس اک ویرانی ہے
وہ شام یاد آتی ہے، جب ساتھ چلتے تھے ہمپھولوں کی خوشبو میں، سب غم بھلاتے تھے ہمآج وہی راستے، خاموش بیٹھے ہوئےہم خود ہی خود سے اب، دور ہوتے ہوئےکچھ تم نے کہا نہ تھا، کچھ ہم بھی کہہ نہ سکےمحبت کی بازی میں، ہم ہی تو ہارے ہوئے
وقت کی لہروں میں، ہم بہتے چلے گئےاپنے ہی سایوں سے، لڑتے چلے گئےکاش کہ وہ پل لوٹ آئے، کاش کہ وہ ہنسی لوٹ آئےہم تو بس تیری ہی، دہلیز پہ کھڑے ہوئے
کیسی یہ دوری ہے، کیسی یہ مجبوری ہےتیرے بن جینا بھی، اک ادھوری کہانی ہےلوٹ کے آ جاؤ، اب تو حد ہو گئی ہےتیرے بن یہ زندگی، بس اک ویرانی ہے
چاندنی راتوں میں اب، تیرا ہی ذکر ہوتا ہےستاروں کی محفل میں، تیرا ہی فکر ہوتا ہےہم نے تو مانگی تھی، دعا تیری خوشیوں کیاب ہر دعا میں بس، تیرا ہی ذکر ہوتا ہےکون جانے کہاں، کس حال میں ہو تم ابدل کو تو صرف، تیرا ہی صبر ہوتا ہے
فاصلے بڑھ گئے، رابطے ٹوٹ گئےہم تھے جو تیرے، آج وہ چھوٹ گئےتڑپتی ہے روح میری، پکارتی ہے تجھ کودیکھو ذرا آ کر، ہم کیسے روٹ گئے
خاموش ہے اب زبان، دل میں طوفان ہےتیرے بنا جی رہے، یہ بھی کیا امتحان ہےآ جاؤ لوٹ کر، آ جاؤ لوٹ کریہ آخری التجا، یہ آخری اذان ہےبس آ جاؤ لوٹ کر...بس آ جاؤ لوٹ کر...
ویرانی کا سفر
شہوار کمال
Preview